تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 23. Al-Muminoon · Ayah 77
حَتّٰۤى اِذَا فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیْدٍ اِذَا هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَ۠ع﴿77﴾
- حَتّٰٓيیہاں تک کہ
- اِذَاجب
- فَتَحْنَاہم نے کھول دئیے
- عَلَيْهِمْان پر
- بَابًادروازے
- ذَا عَذَابٍعذاب والا
- شَدِيْدٍسخت
- اِذَا هُمْتو اس وقت وہ
- فِيْهِاس میں
- مُبْلِسُوْنَمایوس ہوئے
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہاں تک کہ جب ہم ان پر ایک سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں گے تو وہ اس میں بالکل مایوس ہو کے رہ جائیں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
حتی اذا فتحنا علیھم بابا ذا عذاب شدید اذا ھم فیہ مبلسون 77
عذاب شدید سے مردا
یعنی تبیہی جھڑکیوں سے تو ان مغروروں کا دماغ درست ہونے والا نہیں ہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آجائے گا جب ان کی اس تکذیب کے نتیجہ میں ہم ان پر اپنے عذاب شدید کے دروازے کھول دیں گے۔ عذاب شدید سے مراد یہاں وہ فیصلہ کن عذاب ہے جو سنت الٰہی کے تحت ہر اس قوم پر آیاجس نے اپنے رسول کی تکذیب کردی اور اپنی ضد پر اڑی رہ گئی۔ اس سنت الٰہی کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہم کرچکے ہیں۔ اس عذاب کے ظہور کے بعد پھر قوم کو مہلت نہیں ملتی۔ اس کے تمام سہایر اور تمام امیدیں یک قلم ختم ہوجاتی ہیں۔ اسی حقیقت کی طرف آیت کے آخری الفاظ اشارہ کر رہے ہیں۔