تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 24. An-Noor · Ayah 13
لَوْ لَا جَآءُوْ عَلَیْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ١ۚ فَاِذْ لَمْ یَاْتُوْا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓئِكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ﴿13﴾
- لَوْلَاکیوں نہ
- جَآءُوْوہ لائے
- عَلَيْهِاس پر
- بِاَرْبَعَةِچار
- شُهَدَآءَگواہ
- فَاِذْپس جب
- لَمْ يَاْتُوْاوہ نہ لائے
- بِالشُّهَدَآءِگواہ
- فَاُولٰٓئِكَتو وہی لوگ
- عِنْدَ اللّٰهِاللہ کے نزدیک
- هُمُ الْكٰذِبُوْنَوہی جھوٹے
Translation · Tadabbur-e-Quran
آخر یہ لوگ اپنے اس الزام کو ثابت کرنے کے لئے چار گواہ کیوں نہ لائے ! تو جب یہ لوگ گواہ نہیں لائے تو لازماً اللہ کے نزدیک یہی لوگ جھوٹے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
الزام کے ثبوت کے لئے چار گواہوں کا مطالبہ
یعنی ان مفتریوں کی بات لائق اعتناء ہو سکتی تھی تو اس صورت میں ہو سکتی تھی جب یہ شریعت کے مقرر کردہ قانون کے مطابق اپنے الزام کے ثبوت میں چار گواہ پیش کرتے۔ یہ امر واضح رہے کہ اس طرح کے الزام کے ثبوت کے لئے چار گواہوں کی شہادت کا قانون اس سے بہت پہلے سورة نساء آیت 15 میں نازل ہوچکا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ جب ان مفسدوں نے یہ الزام لگایا تھا تو ان کی شرعی اور قانونی ذمہ داری یہ تھی کہ یہ چار گواہ پیش کرتے لیکن جب وہ چار گواہ پیش نہ کرسکے تو خدا کے قانون کی رو سے تو وہی چھوٹے ہیں۔ پھر جن لوگوں نے ان کی طر سے ثبوت فراہم ہوئے بغیر ان کی بات باور کرلی، آخر کس سند کی بنیاد پر باور کرلی ؟