Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 24. An-Noor · Ayah 14

  1. وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِیْ مَاۤ اَفَضْتُمْ فِیْهِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۚۖ﴿14﴾

    1. وَلَوْلَااور اگر نہ
    2. فَضْلُ اللّٰهِاللہ کا فضل
    3. عَلَيْكُمْتم پر
    4. وَرَحْمَتُهٗاور اس کی رحمت
    5. فِي الدُّنْيَادنیا میں
    6. وَالْاٰخِرَةِاور آخرت
    7. لَمَسَّكُمْضرور تم پر پڑتا
    8. فِيْ مَآاس میں جو
    9. اَفَضْتُمْتم پڑے
    10. فِيْهِاس میں
    11. عَذَابٌعذاب
    12. عَظِيْمٌبڑا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی، دنیا اور آخرت میں، تو جس چیز میں تم ملوث ہو گے تھے اس کے باعث تم کو ایک عذاب عظیم آ پکڑتا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
مسلمانوں کو پھر تنبیہ افاض فی الحدیث کا مفہمو یہ ہوتا ہے کہ بات میں سے بات نکالتے ہوئے آدمی کہیں سے کہیں جا پنچے اور بات کا بتنگڑ بنا ڈایل۔ آیت 10 کے بعد یہ پھر مسلمانوں کو تنبیہ ہے کہ اس معاملے میں تم جس روشن پر چل نکلے تھے اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ تم کو ایک عذاب عظیم آ پکڑتا لیکن تم پر دنیا اور آخرت دونوں میں اللہ کی رحمت ہے اس وجہ سے اس نے درگزر فرمایا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے اس فضل و رحمت کی قدر کرو، ایسا نہ ہو کہ کسی اسی طرح کے فتنہ میں پھر مبتلا ہو کر اپنے آپ کو مستحق عذاب بنا ڈالو۔ یہ خطاب سارے معاشرے سے ہے حالانکہ اس معاملے میں ملوث ہونے والے یا سہلا نگاری و بےپروائی کو راہ دینے والے زیادہ لوگ نہیں تھے۔ اس خطاب عام کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح کے مفاسد کی نوعیت وبائی امراض کی ہے۔ اگر چند افراد کے اندر بھی اس کا ظہور ہو تو ہر شخص کو خطرے سے آگاہ ہوجانا چاہئے کہ مبادا یہ وبا عام ہوجائے اور پھر اس کے نتیجہ میں پورا معاشرہ خدا کی پکڑ میں آجائے۔