Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 24. An-Noor · Ayah 16

  1. وَ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِهٰذَا١ۖۗ سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِیْمٌ﴿16﴾

    1. وَلَوْلَآاور کیوں نہ
    2. اِذْجب
    3. سَمِعْتُمُوْهُتم نے وہ سنا
    4. قُلْتُمْتم نے کہا
    5. مَّا يَكُوْنُنہیں ہے
    6. لَنَآہمارے لیے
    7. اَنْ نَّتَكَلَّمَکہ ہم کہیں
    8. بِھٰذَاایسی بات
    9. سُبْحٰنَكَتو پاک ہے
    10. ھٰذَایہ
    11. بُهْتَانٌبہتان
    12. عَظِيْمٌبڑا
Translation · Tadabbur-e-Quran
ایسا کیوں نہ ہوا کہ اس کو سنتے ہی تم نے کہہ دیا ہوتا کہ ہمیں کیا حق ہے کہ ہم ایسی بات زبان پر لائیں ! معاذ اللہ یہ تو ایک بہت بڑا بہتان ہے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
سبحنک یہاں بالکل اسی مفہوم میں ہے جس مفہوم میں ہم معاذ اللہ بولتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب تمہارے سامنے ایک ایسی بات آئی تھی جو ثبوت و شہادت سے بالکل عاری تھی اور جس کی زد صرف ایک مئومنہ کے عزت و ناموس ہی پر نہیں بلکہ ام المومنین کے زعت و ناموس پر پڑ رہی تھی تو تم نے اس کو سنتے ہی یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ بےثبوت و شہادت کسی مومنہ کی شان میں ایسی بات زبان سے نکالنے کا ہمیں کوئی حق نہیں ہے۔ معاذ اللہ یہ صریح بہتان ہے ! ان آیات سے روایت و درایت اور قبول روایت سے متعلق جو اصول نکلتے ہیں وہ بڑے اہم ہیں۔ اگر بحث کے اپنے حدود سے متجاوز ہوجانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو ہم ان کو واضح کرنے کی کوشش کرتے اصحاب علم ان آیات کے اس پہلو پر نگاہ رکھیں۔