Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 24. An-Noor · Ayah 28

  1. فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى یُؤْذَنَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ قِیْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ﴿28﴾

    1. فَاِنْپھر اگر
    2. لَّمْ تَجِدُوْاتم نہ پاؤ
    3. فِيْهَآاس میں
    4. اَحَدًاکسی کو
    5. فَلَا تَدْخُلُوْهَاتو تم نہ داخل ہو اس میں
    6. حَتّٰىیہانتک کہ
    7. يُؤْذَنَاجازت دی جائے
    8. لَكُمتمہیں
    9. وَاِنْاور اگر
    10. قِيْلَ لَكُمُتمہیں کہا جائے
    11. ارْجِعُوْاتم لوٹ جاؤ
    12. فَارْجِعُوْاتو تم لوٹ جایا کرو
    13. هُوَیہی
    14. اَزْكٰىزیادہ پاکیزہ
    15. لَكُمْتمہارے لیے
    16. وَاللّٰهُاور اللہ
    17. بِمَاوہ جو
    18. تَعْمَلُوْنَتم کرتے ہو
    19. عَلِيْمٌجاننے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس اگر تم ان گھروں میں کسی کو نہ پائو تو ان میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک تمہیں اجازت نہ ملے اور اگر تم سے کہا جائے کہ لوٹ جائو تو واپس ہو جائو۔ یہی طریقہ تمہارے لئے پاکیزہ ہے اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اچھی طرح باخبر ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یعنی اگر طلب اجازت کے بعد معلوم ہوجائے کہ گھر میں اس وقت اجازت دینے والا کوئی نہیں ہی تو جب تک اجازت نہ ملے گھر کے اندر داخل نہ ہو اور اگر واپس ہوجانے کے لئے کہا جائے تو واپس ہو جائو۔ ھو ازکی لکم یعنی ہرچند ہے تو یہ دل پر شاق گزرنے والی بات لیکن اخلاقی پہلو سے یہی طریقہ پاکیزہ ہے۔ معلوم نہیں کیا حالات ہیں جس کی بنا پر گھر والوں نے اجازت نہیں دی۔ اس طرح کے معاملات میں اپنے واقر سے زیادہ صاحب خانہ کے مصالح ہی کے لحاظ میں حکمت اور شیطان کے فنتوں سے امان ہے۔ خدا کی صفت علم کی بار بار یاد دہانی کی حکمت واللہ بما تعملون علیکم یہ مضمون یہاں معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ بار بار آیا ہے۔ آگے فرمایا ہے۔ واللہ یعلم ماتبدون وما تکتمون پھر ارشاد ہوا ہے۔ ان اللہ خبیر بما یصنعون اللہ تعالیٰ کی صفت علم کی یہ بار بار یاد دہانی اس وجہ سے کی جا رہی ہے کہ جن چیزوں سے یہاں روکا جا رہا ہے ان کے لئے نفس کے اندر چور دروازے بہت سے ہیں۔ جب تک خدا کے علیم وخبیر ہونے کا صحیح طور پر استخصار نہ ہو مجرد احکام و ہدایات سے ان رخنوں کو بند کرنا ممکن نہیں ہے۔ شیطان کوئی نہ کوئی راستہ نکال ہی لیتا ہے اور آدمی ٹھوکر کھا جاتا ہے۔ البتہ اگر اس تصور کا دل پر ہر وقت غلبہ رہے کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھ رہا ہے تو یہ چیز شیاطن کی مخفی سے مخفی چالوں سے بھی انسان کو محفوظ رکھتی ہے۔