Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 24. An-Noor · Ayah 29

  1. لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِیْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ﴿29﴾

    1. لَيْسَنہیں
    2. عَلَيْكُمْتم پر
    3. جُنَاحٌکوئی گناہ
    4. اَنْاگر
    5. تَدْخُلُوْاتم داخل ہو
    6. بُيُوْتًاان گھروں میں
    7. غَيْرَ مَسْكُوْنَةٍجہاں کسی کی سکونت نہیں
    8. فِيْهَاجن میں
    9. مَتَاعٌکوئی چیز
    10. لَّكُمْتمہاری
    11. وَاللّٰهُاور اللہ
    12. يَعْلَمُجانتا ہے
    13. مَا تُبْدُوْنَجو تم ظاہر کرتے ہو
    14. وَمَااور جو
    15. تَكْتُمُوْنَتم چھپاتے ہو
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ان غیر رہائشیم کانوں میں داخل ہونے میں تمہارے لئے کوئی ہرج نہیں جن میں تمہارے لئے کوئی منفعت ہے اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
غیر مکونۃ سے مراد قرنیہ دلیل ہے کہ یہاں وہ مکانات ہیں جو غیر رہائشی ہیں یعنی جن میں آدمی کے بیوی بچے نے رہتے ہوں اوپر کی ہدایات سے واضح ہے کہ اجازت لینے کی یہ پابندی اصلاً بدنگاہی اور موقع تہمت سے بچانے کے لئے کی گئی ہے اس وجہ سے ان مکانوں کے لئے یہ پابندی ضروری نہیں ہے جو غیر رہائشی ہیں۔ ان میں آدمی بغیر اذن کے بھی جاسکتا ہے لیکن اس کے ساتھ بھی فیھا متاع لکم کی قید لگی ہوئی ہے۔ یعنی کوئی منفعت اور ضرورت اس کے لئے داعی ہو متاع لکم کے الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ مکانات ہوں ہی عام ضرورت کے مثلاً دکانیں، سرائیں، ہوٹل وغیرہ، مردانہ نشست گاہیں بھی اسی حکم میں داخل ہیں۔ واللہ یعلم ماتبدون وما تکتمون یہ اسی طرح کی تنبیہ ہے جس طرح کی تنبیہ اوپر گزر چکی ہے۔ اس تنبیہ کی رضورت اس وجہ سے ہوئی کہ آدمی کے اندر اگر خدا کی صفت علم کا صحیح استخصار نہ ہو تو وہ اس آزادی سے بھی غلط فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ایک شخص کسی کے زنانہ مکان میں بدوں، اجازت، گھس جائے اور جب اس پر اعتراض ہو تو وہ یہ عذر کر دے کہ میں نے سمجھا کہ یہ مردانہ نشست گاہ یا دفتر ہے۔