Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 24. An-Noor · Ayah 51

  1. اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴿51﴾

    1. اِنَّمَااس کے سوا نہیں
    2. كَانَہے
    3. قَوْلَبات
    4. الْمُؤْمِنِيْنَمومن (جمع)
    5. اِذَاجب
    6. دُعُوْٓاوہ بلائے جاتے ہیں
    7. اِلَى اللّٰهِاللہ کی طرف
    8. وَرَسُوْلِهٖاور اس کا رسول
    9. لِيَحْكُمَتاکہ وہ فیصلہ کردیں
    10. بَيْنَهُمْان کے درمیان
    11. اَنْکہ۔ تو
    12. يَّقُوْلُوْاوہ کہتے ہیں
    13. سَمِعْنَاہم نے سنا
    14. وَاَطَعْنَااور ہم نے اطاعت کی
    15. وَاُولٰٓئِكَاور وہ
    16. هُمُوہی
    17. الْمُفْلِحُوْنَفلاح پانے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اہل ایمان کی بات تو یہ ہوتی ہے کہ جب وہ اپنی کسی باہمی نزاع کے فیصلہ کے لئے اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مانا اور درحقیقت یہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
سچے مسلمان کی شان یہ سچے مسلمانوں کی شان بتائی کہ ان کو جب کسی معاملہ کے فیصلہ کے لئے اللہ و رسول کی طرف بلایا جائے تو ان کی شان یہ ہونی چاہئے کہ وہ یہ کہتے ہوئے اس کو قبول کریں کہ ہم نے سنا اور مانا فرمایا کہ جو لوگ اس طرح ہر لوث اور ہر طمع و خوف سے بالاتر ہو کر اپنے آپ کو اللہ و رسول کے حوالہ کریں گے درحقیقت دنیا اور آخرت دونوں میں اپنے حقیقی مفاد کو محفوظ کرنے والے وہی ہیں نہ کہ یہ لوگ جو بیک وقت کفر و اسلام دونوں سے اپنے مفاد کے حد تک دوستی رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ دو کشتیوں کے سوار لازماً ڈوب کے رہیں گے۔