تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 25. Al-Furqaan · Ayah 30
وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا﴿30﴾
- وَقَالَاور کہے گا
- الرَّسُوْلُرسول
- يٰرَبِّاے میرے رب
- اِنَّبیشک
- قَوْمِيمیری قوم
- اتَّخَذُوْاٹھہرا لیا انہوں نے
- ھٰذَا الْقُرْاٰنَاس قرآن کو
- مَهْجُوْرًامتروک (چھوڑنے کے قابل)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور رسول کہے گا کہ اے میرے رب میری قوم نے اس قرآن کو پس انداز کردہ چیز بنایا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قیامت کے دن نبی ﷺ کا اپنے رب سے شکوہ
رسول سے مراد نبی ﷺ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ایک طرف تو قرآن کو جھٹلانے والے خود اپنی بدبختی پر اپنے سرپیٹیں گے۔ دوسری طرف نبی ﷺ بھی اپنے رب سے شکوہ کریں گے کہ اے رب ! میں نیتیری کتاب، پوری دلسوزی کے ساتھ، اپنی اس قوم کے سامنے پیش کی لیکن ان لوگوں نے اس کی کوئی قدر نہیں کی بلکہ نہایت ناقدری کے ساتھ اس کو ٹھکرا دیا۔ حضور کا یہ شکوہ ان اشقیار کے تابوت میں آخری کیل ہوگا جس کے بعد ان کے لئے زبان کھولنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جائے گی۔ یہ بات سورة مائدہ میں تفصیل کے ساتھ گزر چکی ہے کہ قیامت کے دن انبیاء اپنی اپنی قوموں کے معاملہ میں گواہی دیں گے۔