Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 25. Al-Furqaan · Ayah 33

  1. وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ﴿33﴾

    1. وَلَا يَاْتُوْنَكَاور وہ نہیں لاتے تمہارے پاس
    2. بِمَثَلٍکوئی بات
    3. اِلَّامگر
    4. جِئْنٰكَہم پہنچا دیتے ہیں تمہیں
    5. بِالْحَقِّٹھیک (جواب)
    6. وَاَحْسَنَاور بہترین
    7. تَفْسِيْرًاوضاحت
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور یہ لوگ جو اعتراض بھی اٹھائیں گے ہم اس کا صحیح جواب اور اس کی بہترین توجیہ تمہیں بتا دیں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 9 کے تحت ہم واضح کر آئے ہیں کہ ضرب مثل کا محاورہ اعتراض و نکتہ چینی کے لئے بھی آتا ہے یہاں موقع دلیل ہے کہ یہ اعتراض ہی کے مفہوم میں ہے اور آیت میں اس کا مقابللفظ حق استعمال ہوا ہے جس سے یہ بات نکلی کہ اس سے مراد یہاں اعتراض باطل ہے۔ آنحضرت ﷺ کو اطمینان دبانی معترضین کے تمام اعتراضوں کا مسکت اور دل نشین جواب دینے کے بعد یہ پیغمبر ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ تم مطمئن رہو۔ یہ لوگ جو اعتراض باطل بھی تمہارے خلاف اٹھائیں گے اس کے جواب کی ذمہ داری ہمارے اوپر ہے۔ ہم اس کا صحیح جواب اور اس کی بہترین توجیہ و تفسیر تم پر نازل کردیں گے۔ اس اطمینان دہانی کی ضرورت اس وجہ سے تھی کہ نبی ﷺ نے اپنی نبوت و رسالت اور قرآن کی جو دعوت لوگوں کو دی وہ خدا کے حکم سے دی، اس میں کوئی ادنیٰ دخل بھی آپ ﷺ کی اپنی خواہش کو نہیں تھا۔ آپ ﷺ کے اس دعوے اور دعوت کی وجہ سے پوری قوم آپ ﷺ کی دشمن بن کر اٹھ کھڑی ہوئی اور ہر طرف سے اعتراضات کی بوچھاڑ شروع ہوگئی۔ اگر مخالفین کے ان تمام حملوں کی مدافعت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ اپنے اوپر نہ لیتا تو تمام خلق کا منہ آپ ﷺ کس طرح بند کرسکتے تھے۔