تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 25. Al-Furqaan · Ayah 54
وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًا١ؕ وَ كَانَ رَبُّكَ قَدِیْرًا﴿54﴾
- وَهُوَاور وہی
- الَّذِيْجس نے
- خَلَقَپیدا کیا
- مِنَ الْمَآءِپانی سے
- بَشَرًابشر
- فَجَعَلَهٗپھر بنائے اس کے
- نَسَبًانسب
- وَّصِهْرًااور سسرال
- وَكَانَاور ہے
- رَبُّكَتیرا رب
- قَدِيْرًاقدرت والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور وہی ہے جس نے انسانوں کو اپنی قدرت سے پیدا کیا اور پھر ان کو نسبی اور سسرالی رشتوں سے جوڑا اور تیرا رب بڑی قدرت رکھنے والا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اضداد میں توافق کی ایک انفسی دلیل
نسباً و صھراً یعنی ذانسب وصھر نسب کا مفہوم تو واضح ہے۔ صھر اس قرابت کو کہتے ہیں جو سسرالی رشتہ سے وجود میں آئے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کو اللہ نے پانی سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بھی پیدا کیا پھر ان دونوں کے اندر ایسے فطری داعیات ودیعت فرمائے کہ انسان ایک طرف نسبی تعلقات رکھنے والا بن سکے اور دوسری طرف سسرالی روابط کے ساتھ جڑ سکے اور اس طرح اس خاندان اور معاشرت و اجماعیت کی تعمیر کرنے والا بنے جس کے لئے خالق حکیم و قدیر نے اس کو وجود بخشا ہے۔ وکان ربک قدیراً یعنی یہ قدرت و اختیار صرف خدا ہی کو حاصل ہے کہ وہ ایک ہی پانی سے اضداد کو جود میں لائے اور پھر ان اضداد کو اپنی قدرت و حکمت سے ایک سلک میں پردے۔ یہ اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ ایک ہی حکیم و قدیر کا ارادہ اس پوری کائنات پر متصرف ہے۔ وہی اپنی قدرت سے ایک ہی مادہ سے اضداد کو جود میں لاتا اور پھر اپنی بےنہایت حکمت سے ان اضداد کے اندر وابستگی و پیوستگی پیدا کرتا ہے۔
یہ امر یہاں محلوظ ہے کہ اوپر کی آیات میں آفاقی دلائل بیان ہوئے تھے اور یہ دلیل انفسی دلائل میں سے ہے۔