تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 25. Al-Furqaan · Ayah 6
قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا﴿6﴾
- قُلْفرما دیں
- اَنْزَلَهُاسکو نازل کیا ہے
- الَّذِيْوہ جو
- يَعْلَمُجانتا ہے
- السِّرَّراز
- فِي السَّمٰوٰتِآسمانوں میں
- وَالْاَرْضِاور زمین
- اِنَّهٗ كَانَبیشک وہ ہے
- غَفُوْرًابخشنے والا
- رَّحِيْمًانہایت مہربان
Translation · Tadabbur-e-Quran
ان سے کہہ دو کہ اس کو اس نے اتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کے بھید کو جانتا ہے۔ بیشک وہ بڑا ہی غفور رحیم ہے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
معترضین پر ایک لطیف طنز اور ان کو تنبیہ فرمایا کہ ان لوگوں کو بتا دو کہ اس کتاب کو اتارنے والا وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کے سارے بھیدوں اور تمام اسراروموز سے خود اچھی طرح باخبر ہے۔ وہ اس کی تصنیف ہیں کسی عربی و عجمی کی مدد کا محتاج نہیں ہے۔ کوئی کتنا ہی بڑا عالم و حکیم ہو وہ اس کتاب سے بصیرت و رہنمائی تو حاصل کرسکتا ہے لیکن اس طرح کی کتاب تصنیف کرنا تو درکنار وہ اس کے علم و حکمت میں کوئی اضافہ بھی نہیں کرسکتا۔ یہ حقیقت اس کتاب کی سطر سطر سے واضح ہے کہ اس کا اتارنے والا وہی ہے جو اس کائنات کے تمام بھیدوں سے واقف اور اس کے ظاہر و باطن اور آغاز و انجام ہر چیز سے باخبر ہے چناچہ اس نے ماضی کی عبرتیں بھی سامنے رکھ دی ہیں، حاضر کی ذمہ داریاں بھی واضح کردی ہیں اور مستقبل کے نتائج سے بھی پردہ اٹھا دیا ہے۔
انہ کان غفور رحیماً یعنی وہ چونکہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے اس وجہ سے اس نے یہ کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ جو لوگ توبہ و اصلاح کرنا چاہیں وہ توبہ و اصلاح کر کے اس کی رحمت کے مستحق بن جائیں مطلب یہ ہے کہ وہ اتارنے کو تو عذاب بھی اتار سکتا ہے۔ وہ حق کے دشمنوں کے رویہ سے اچھی طرح باخبر ہے لیکن وہ اپنی رحمت کے سبب سے عذاب میں جلدی نہیں کرتا بلکہ چاہتا ہے کہ لوگ ہدایت کی راہ اختیار کریں تاکہ اس کی مغفرت کے سزا وار ہوں۔ اس میں اشارہ اس بات کی طرف بھی ہے کہ بہرحال وہ سارے حالات و معاملات سے اچھی طرح واقف ہے۔ اگر لوگوں نے صحی روش نہ اختیار کی تو اس کا جو انجام ہونا ہے وہ بھی سامنے آ کے رہے گا۔