تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 26. Ash-Shu'araa · Ayah 105
Tafseerكَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ﴿105﴾
- كَذَّبَتْجھٹلایا
- قَوْمُ نُوْحِنوح کی قوم
- الْمُرْسَلِيْنَرسولوں کو
Translation · Tadabbur-e-Quran
نوح کی قوم نے بھی رسولوں کی تکذیب کی
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آگے کا مضمون ……آیات 122-105
حضرت نوح کی دعوت کا بیان
آگے حضرت نوح ؑ کی دعوت، ان کی قوم کی طر سے ان کی تکذیب اور اس کے نتیجہ میں قوم پر عذاب کا نزول اور آخر اور آخر میں انہی آیات کی ترجیح ہے جو اوپر گزر چکی ہیں۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمایئے۔
ایک رسول کی تکذیب پر رسول کی تکذیب ہے
قوم نے تکذیب اگرچہ ایک ہی رسول … حضرت نوح … کی کی تھی لیکن لفظ مرسلین جمع استعمال ہوا ہے۔ اس کی وجہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ رد و قبول کے معاملے میں اصل اعتبار درحقیقت رویا قبول کرنے والوں کی ذہنیت کا ہوتا ہے۔ جب تمام نبیوں کی دعوت وہی رہی ہے جو حضرت نوح نے دی تو جن لوگوں نے ان کی دعوت رد کردی انہوں نے گویا ہر نبی و رسول کی دعوت رد کردی۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جس طرح تمام انبیاء کی دعوت یکساں رہی ہے اسی طرح ان کی تکذیب کرنے والوں کی ذہنیت بھی ہمیشہ یکساں رہی ہے اور پھر اس کا انجام بھی ہمیشہ ایک ہی ہوا ہے۔ اسیح قیت کو واضح کرنے کے لئے یہاں یہ سرگزشت بیان ہوئی ہے تاکہ آنحضرت ﷺ کے مکذبین اس سے سبق حاصل کریں۔