تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 26. Ash-Shu'araa · Ayah 168
قَالَ اِنِّیْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَؕ﴿168﴾
- قَالَاس نے کہا
- اِنِّىْبیشک میں
- لِعَمَلِكُمْتمہارے فعل سے
- مِّنَسے
- الْقَالِيْنَنفرت کرنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس نے کہا، میں تمہارے اس عمل سے سخت بیزار ہوں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قال انی عملکم من القالین 168
قلی کے معنی شدید بغض و نفرت کے ہیں۔ حضرت لوط نے قوم کی فیصلہ کن دھمکی کا جواب بھی بھرپور دیا۔ فرمایا کہ میں تو تمہارے اس عمل سے شدید بغض و نفرت رکھنے والوں میں سے ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر مجھ سے بیزاری وعناد کا سبب یہ ہے کہ میں تمہارے اس عمل پر تمہیں ملامت کرتا ہوں تو تمہاری یہ دھمکی مجھے اس سے نہ روک سکتی اور نہ ذرا اس میں مجھے نرم کرسکتی۔ خوب کان کھول کر سن لو کہ میں اس سے شدید بغض و نفرت رکھنے والوں میں سے ہوں تو تم جو کچھ کرنا چاہتے ہو، کر گزرو۔ مجھے اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔
دھمکی کا بھرپور جواب
من القالین میں لفظ جمع لانے سے کلام میں زیادہ زور پیدا ہوگیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میں ہی تنہا اس سے بیزار نہیں ہوں بلکہ وہ ہر وہ انسان جس کی فطرت سلیم اور عقل مستقیم ہے اس سے بیزار ہوگا اور میں انہی میں ہوں۔ میں تمہارے اس عمل کے ساتھ کسی طرح تمہارا ساتھ بنننا گوار نہیں کرتا۔