تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 26. Ash-Shu'araa · Ayah 22
وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ﴿22﴾
- وَتِلْكَاور یہ
- نِعْمَةٌکوئی نعمت
- تَمُنُّهَا عَلَيَّتو اس کا احسان رکھتا ہے مجھ پر
- اَنْ عَبَّدْتَّکہ تونے غلام بنایا
- بَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَبنی اسرائیل
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور یہ احسان ہے جو تم مجھے جتا رہے ہو جس کے عوض تم نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
حضرت موسیٰ کا بلیغ جواب
یہ حضرت موسیٰ نے فرعون کے اس اظہار احسان کا جواب دیا ہے جس کا ذکر آیات 19-18 میں گزرا ہے اور غور کیجیے کہ کس قدر بلیغ جواب دیا ہے۔ فرمایا کہ تم اپنا یہ احسان مجھے اپنے اس ظلم عظیم کو جائز ثابت کرنے کے لئے جتا رہے ہو کہ تم نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے ! مطلب یہ ہے کہ یہ احسان ہے تو سہی، اس کا شکریہ ! لیکن اس احسان کے بدلے میں تمہیں یہ حق تو نہیں حاصل ہوسکتا کہ تم تمام بنی اسرائیل کو غلام بنائے رکھو اور میں اس کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھائوں !