Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 26. Ash-Shu'araa · Ayah 23

  1. قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَؕ﴿23﴾

    1. قَالَ فِرْعَوْنُفرعون نے کہا
    2. وَمَااور کیا ہے
    3. رَبُّرب
    4. الْعٰلَمِيْنَسارے جہان
Translation · Tadabbur-e-Quran
فرعون نے پوچھا اور یہ رب العالمین کیا چیز ہے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
دعوائے رسالت کا استہزاء فرعون اپنے طعنہ اور اظہار احسان کا جواب تو ایسا مسکت پا گیا کہ اس کے لئے مزید کچھ کہنے کی گنجائش باقی نہیں رہ گئی اس وجہ سے اس نے اپنا بھرم قائم رکھنے کے لئے حضرت موسیٰ کے دعوائے رسالت کا مذاق اڑانے کی کوشش کی۔ اوپر آیت 16 میں گزر چکا ہے کہ حضرت موسیٰ و حضرت ہارون (علیہما السلام) نے اس کے سامنے اپنے آپ کو اللہ رب العالمین کے رسول کی حیثیت سے پیش کیا تھا۔ اس نے رب العالمین کا مذاق اڑایا کہ یہ رب العلمین کیا چیز ہے جس کے تم دونوں رسول بن کر آئے ہو ! اس کا مطلب یہ تھا کہ سب سے بڑے دیوتا کا اوتار اور رب العلمین کیا چیز ہے جس کے تم دونوں رسول بن کر آئے ہو ! اس کا مطلب یہ تھا کہ سب سے بڑے دیوتا کا اوقار اور رب العلمین تو میں ہوں، تو میرے ہوتے اور کون رب العلمین ہے جس نے تم کو رسول بنا کر بھیجا ؟