تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 27. An-Naml · Ayah 11
اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿11﴾
- اِلَّامگر
- مَنْجو۔ جس
- ظَلَمَظلم کیا
- ثُمَّ بَدَّلَپھر اس نے بدل ڈالا
- حُسْنًۢابھلائی
- بَعْدَبعد
- سُوْٓءٍبرائی
- فَاِنِّىْتو بیشک میں
- غَفُوْرٌبخشنے والا
- رَّحِيْمٌنہایت مہربان
Translation · Tadabbur-e-Quran
ہاں مگر جو کسی برائی کا مرتکب ہوا پھر اس نے برائی کے بعد اس کو بھلائی سے بدل دیا تو میں بخشنے والا اور مہربان ہوں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
حضرت موسیٰ کے ایک اندیشہ کا ازالہ
اللہ تعالیٰ کے نیک اور سلیم الفطرت بندوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب ان کو کوئی اندیشے کی حالت پیش آتی ہے تو فوراً ان کا ذہن اپنی کسی غلطی کی طرف جاتا ہے کہ مبادایہ اسی کا خمیازہ ہو۔ ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ کا ذہن اس موقع پر قبطی کے قتل کے واقعہ کی طرف منتقل ہوا ہو۔ اگرچہ اس کے بعد حضرت موسیٰ کا ازالہ نے توبہ کرلی تھی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول بھی فرمالی تھی لیکن حضرات انبیاء اور صالحین اپنا محاسبہ کرنے میں بڑے محتاط ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے لایخاف لدی المرسلون کے وعدہ بشارت کو موکد کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو یہ اطمینان بھی دلادیا کہ میرے کسی بندے سے اگر کوئی غلطی صادر ہوجاتی ہے۔ پھر وہ توبہ واصلاح سے اس کی تلافی کردیتا ہے تو میں اس کو معاف کردیتا ہوں، میں بڑا ہی غفور و رحیم ہوں۔ اس بات کو یہاں عام صیغے میں فرما کر اس کے فیض کو ہمہ گیر کردیا ہے کہ یہ معاملہ کچھ تمہارے ہی لئے خاص نہیں ہے بلکہ میں اپنے ہر بندے کے ساتھ یہی معاملہ کرتا ہوں۔