تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 27. An-Naml · Ayah 14
وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۠ع﴿14﴾
- وَجَحَدُوْااور انہوں نے انکار کیا
- بِهَااس کا
- وَاسْتَيْقَنَتْهَآحالانکہ اس کا یقین تھا
- اَنْفُسُهُمْان کے دل
- ظُلْمًاظلم سے
- وَّعُلُوًّااور تکبر سے
- فَانْظُرْتو دیکھو
- كَيْفَکیسا
- كَانَہوا
- عَاقِبَةُانجام
- الْمُفْسِدِيْنَفساد کرنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور انہوں نے ظلم اور گھمنڈ کے سبب سے ان کا انکار کیا حالانکہ ان کے دلوں نے ان کو تسلیم کیا تو دیکھو کیا ہوا ان مفسدین کا انجام !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وجحدوا بھا واستیف تھا انفسھم ظلماً وعلوا فانظر کیف کان فیہ المفسدین (14)
منکروں کے انکار کا اصل سبب ان کا ظلم اور اعلو ہوتا ہے
یہ آخر میں اصل مدعا سامنے رکھ دیا گیا ہے جس کے لئے یہ سرگزشت سنائی گئی ہے۔ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ دعوت حق کو قبول نہیں کرنا ہتے وہ ایک دو نہیں بلکہ نو نو معجزات دیکھ کر بھی اپنے انکار کے لئے کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈ ہی لیتے ہیں۔ ان کے دل اقرار کرتے ہیں کہ داعی کی بات حق ہے لیکن زبانوں سے وہ برابر اس کی تکذیب ہی کرتے رہتے ہیں۔ ان کے انکار کی اصل علت یہ نہیں ہوتی کہ حق ان پر اچھی طرح واضح نہیں ہوتا بلکہ اس کا اصل سبب ان کا …ورعلتو ہوتا ہے۔ وہ خدا اور اس کے بندوں کے حقوق تلف کرنے کے خوگر ہوجاتے ہیں اور انہیں یہ بھی اس سے دست بردار ہونا نہیں چاہتے اور ان کے اندر استکبار پیدا ہوجاتا ہے اس کے سبب سے اپنی خواہش کے خلاف کسی بڑے سے بڑے حق کے آگے بھی جھکنے کے لئے وہ تیار نہیں ہوتے۔ ایسے مفسدین کا انجام وہی ہوتا ہے جو فرعون اور اس کی قوم کا ہوا۔