Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 27. An-Naml · Ayah 17

  1. وَ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ﴿17﴾

    1. وَحُشِرَاور جمع کیا گیا
    2. لِسُلَيْمٰنَسلیمان کے لیے
    3. جُنُوْدُهٗاس کا لشکر
    4. مِنَسے
    5. الْجِنِّجن
    6. وَالْاِنْسِاور انسان
    7. وَالطَّيْرِاور پرندے
    8. فَهُمْپس وہ
    9. يُوْزَعُوْنَروکے جاتے تھے
Translation · Tadabbur-e-Quran
سلمان کے جانزے کے لئے اس کا سارا لشکر۔ جنوں، انسانوں اور پرندوں میں سے … اکٹھا کیا گیا اور ان کی درجہ بندی کی جارہی تھی
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
حشر لسلمین میں مضاف محذوف ہے یعنی حضرت سلیمان کے جائزہ اور ملاحظہ کے لئے ان کی ساری فوج جمع کی گئی۔ حضرت سلیمان کی فوڈ وزع کے اصل معنی روکنے، تھامنے اور سنبھالن کے ہیں۔ آگے آیت 19 میں اسی معنی میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے لیکن فوج کے تعلق سے جب یہ لفظ آئے تو اس کے معنی تربیت دینے اور درجہ بندی و صف بندی کرنے کے ہوتے ہیں۔ اب یہ حضرت سلیمان کی افواج کی ایک پریڈ کا ذکر فرمایا ہے جس میں ان کی تمام فوج، جو جنوں انسانوں اور پرندوں پر مشتمل تھی، ان کے ملاحظہ کے لئے اکٹھی کی گی۔ فھو یوزعون یعنی مقصود اس اجتماع سے ان کی ترتیب اور الگ الگ درجہ بندی تھی۔ یہاں اس پریڈ کے ذکر سے اصل مدعا، جیسا کہ آگے کی آیات سے واضح ہوگا، یہ دکھانا ہے کہ حضرت سلیمان کی فوج کیسی حیرت انگیز صلاحیتیں رکھنے والے انسانوں، جنوں اور پرندوں پر مشتمل تھی۔ لیکن جب ان کے فوجیوں کی طرف سے ان کی حیرت انگیز صلاحیتیں ظاہر ہوئیں تو وہ بچائے اس کے کہ ان سیغرور اور گھمنڈ میں مبتلا ہوں اور یہ ڈھنڈورا پیٹیں کہ میں اب دنیا میں ایک ناقابل تسخیر قوتبن گیا ہوں، انہوں نے اپنا سر نہایت تواضح کے ساتھ اپنے رب کے آگے جھکا دیا کہ اے رب ! اگر تو نے مجھ پر یہ فضل فرمایا ہے تو مجھے سنبھال کہ میں کہیں بہک نہ جائوں بلکہ ہمیشہ تیرا شکر گزار اور فرمانبردار بندہ رہوں۔