تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 27. An-Naml · Ayah 54
وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ﴿54﴾
- وَلُوْطًااور لوط
- اِذْ قَالَجب اس نے کہا
- لِقَوْمِهٖٓاپنی قوم
- اَتَاْتُوْنَکیا تم آگئے (اتر آئے) ہو
- الْفَاحِشَةَبےحیائی
- وَاَنْتُمْاور تم
- تُبْصِرُوْنَدیکھتے ہو
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے لوط کو بھی رسول بنا کر بھیجا۔ جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا تم کھلی آنکھوں دیکھتے ہوئے اس بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ولوطا ذقال یقومہ اقالون الفاحشۃ وانتم تبصرون (54)
حضرت لوط اور قوم لوط کا بیان
یہ اوپر والے واقعہ پر معطوف ہے اس وجہ سے یہاں فعل محذوف ہے۔ یعنی ارسلنا لوطاً الفاحشہ کھلی ہونی بےحیائی و بےشرمی کو کہتے ہیں جس کے بےحیائی ہونے میں کسی اختلاف و نزاع کی گنجائش نہ ہو۔ اس کی وضاحت آ گے آرہی ہے۔
وانتم تبصرون یعنی کوئی برائی مخفی قسم کی ہو تو اس میں مبتلا ہوجانا تو چنداں تعجب کی بات نہیں ہے لیکن ایک کھلی ہوئی بےحیائی میں، آنکھیں رکھتے ہوئے مبتلا ہوجانا بدبختی اور اندھے پن کی آخری حد ہے۔ اگر ایک شخص اندھا ہو اور اس کے پائوں غلاظت پر پڑجائیں تو اس کے لئے عذر ہے لیکن تمہارے لئے کیا عذر ہے جب کہ تم دونوں آنکھیں رکھتے ہوئے غلاظت کھا رہے ہو !