تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 27. An-Naml · Ayah 55
اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ﴿55﴾
- اَئِنَّكُمْکیا تم
- لَتَاْتُوْنَآئے ہو
- الرِّجَالَمردوں کے پاس
- شَهْوَةًشہوت رانی کے لیے
- مِّنْعورتوں کے سوا
- دُوْنِ النِّسَآءِعورتوں کو چھوڑ کر
- بَلْبلکہ
- اَنْتُمْتم
- قَوْمٌلوگ
- تَجْهَلُوْنَجہالت کرتے ہو
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا تم لوگ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو ! بلکہ تم بڑے ہی جاہل ہو !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اننکم لتاتون الرجال شھوۃ من دون الغسآء ط بل انتم قوم تجھلون (55)
استفہام یہاں اظہار تعجب و حیرت و کراہت کے لئے ہے۔ من دون النسآء کی قیدان کے اندھے پن کو واضح کر رہی ہے کہ قضائے شہوت کے لئے ایک فطری اور جائز چیز کے موجود ہوتے تمہارا یہ انحراف تمہاری فطرت کے مسخ ہونے کی دلیل ہے۔ لفظ جھل جیسا کہ ہم اس کے محل میں واضح کرچکے ہیں، جذبات و خواہشات نفس سے اس طرح مغلوب ہوجانے کے لئے آتا ہے کہ آدمی عقل و ہوش بالکل ہی کھو بیٹھے بل انتم قوم تجھلون یعنی تمہاری عقلیں بالکل ہی مائوف و مغلوب ہوگئی ہیں۔