تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 27. An-Naml · Ayah 57
فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ﴿57﴾
- فَاَنْجَيْنٰهُسو ہم نے بچالیا
- وَاَهْلَهٗٓاور اس کے گھر والے
- اِلَّاسوائے
- امْرَاَتَهٗاس کی بیوی
- قَدَّرْنٰهَاہم نے اسے ٹھہرا دیا تھا
- مِنَسے
- الْغٰبِرِيْنَپیچھے رہ جانے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو ہم نے اس کو اور اس کے لوگوں کو نجات دی بجز اس کی بیوی کے، اس کو ہم نے پیچھے رہ جانے والوں میں شمار کر رکھا تھا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فانجینہ واھلہ الا امراتہ قدرنھا من الغبرین (57)
لفظ اھل بھی جیسا کہ ہم اس کے محل میں وضاحت کرچکے ہیں، اہل و عیال اور اتباع و صحابہ سب کے لئے آتا ہے اور یہاں یہ اسی مفہوم میں ہے۔
اللہ تعالیٰ کے ہاں ذمہ داری بقدر انعام ہے
قدرنھا من الغبرین سے صرف یہی بات نہیں واضح ہوتی کہ حضرت لوط کی بیوی اس نجات سے محروم رہی بلکہ یہ بات بھی اس سے نکلتی ہے کہ اس پتھرائو کا نشانہ بنانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو خاص قوم کے ساتھ ہی رہیں تو دوسروں کے مقابل میں خدا کے غضب کی وہ زیادہ مستحق تھی۔ اللہ تعالیٰ جن کو تعلیم و ہدایت کے جتنے ہی زیادہ مواقع میسر فرماتا ہے، اگر وہ اس کی قدر نہیں کرتے تو ان کو سزا بھی اسی کے حساب سے ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ذمہ داری نقد انعام ہے۔
قوم لوط کا انجام
یعنی لوط اور ان کے ساتھیوں کو تو اللہ تعالیٰ نے نجات بخشی اور بقیہ پوری قوم پر، فرمایا کہ ہم نے ایک نہایت بری بارش برسائی۔ اس بارش سے مراد اس پتھرائو کی بارش ہے جس کی تفصیل پیچھے کی سورتوں میں گزرچکی ہے
نسآء مطر المنذرین میں اسی حقیت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ بری بارش نتیجہ تھی اس بات کا کہ ان لوگوں پر اللہ نے اپنے ایک رسول کے ذریعہ سے اتمام حجت فرما دیا تھا۔ اس اتمام حجت کے بعد بھی جب وہ اندھے بہرے بھی بنے رہے تو مستحق تھے کہ وہ سنگسار کر کے زمین میں دفن کردیئے جائیں۔
یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ قوم ثمود کی طرح قوم لوط کی بستیاں بھی قریش کی گزر گاہیں تھیں۔ اسی وجہ سے ان دونوں قوموں کا خاص طور پر اس سورة میں ذکر فرمایا کہ دور اور قریب دونوں کے ٓثار کی طرف ان کی توجہ دلا دی جائے۔