تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 27. An-Naml · Ayah 93
وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ سَیُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ فَتَعْرِفُوْنَهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ع﴿93﴾
- وَقُلِاور فرما دیں
- الْحَمْدُتمام تعریفیں
- لِلّٰهِاللہ کے لیے
- سَيُرِيْكُمْوہ جلد دکھا دے گا تمہیں
- اٰيٰتِهٖاپنی نشانیاں
- فَتَعْرِفُوْنَهَاپس تم پہچان لوگے انہیں
- وَمَااور نہیں
- رَبُّكَتمہارا رب
- بِغَافِلٍغافل (بےخبر)
- عَمَّااس سے جو
- تَعْمَلُوْنَتم کرتے ہو
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور کہہ دو کہ سزا اور شکر اللہ ہے اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا تو تم ان کو پہچان جائو گے اور جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو اس سے تمہارا رب غافل نہیں ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یعنی ان سے کہہ دو کہ اللہ ہی شکر کا سزا وار ہے جس نے مجھ پر قرآن کی یہ نعمت اتاری اور میں وہ تم کو سنارہا ہوں۔ اگر تم اس کی قدر نہیں کر رہے ہو اور مجھ سے نشانیوں کا مطالبہ کر رہے ہو تو وہ وقت بہت جلد آ رہا ہے جب وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا اس وقت تمہیں پتہ چلے گا کہ میں نے تمہیں کتنی سچی باتیں بتانی تھیں لیکن تم نے اپنی بدبختی سے ان کی قدر نہیں کی۔ فتعرفونھا یعنی اس وقت تم جانو گے کہ کسی نے اس انجام سے تمہیں آگاہ کیا تھا لیکن تم نے اس کو جھٹلایا اور اپنی یہ شامت بلائی۔ مگر اس جاننے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
وماربک بغافلعما تعملون یعنی اس غلط فہمی میں نر ہو کہ تم جو شرارتیں کر رہے ہو خدا اس سے بیخبر ہے وہ ہر چیز سے باخبر ہے اور تمہاری خبر لے گا لیکن اس کے ہاں ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے۔
ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے انجام کو پہنچی۔ فالحمد للہ علی ذلک