Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 28. Al-Qasas · Ayah 12

  1. وَ حَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰۤى اَهْلِ بَیْتٍ یَّكْفُلُوْنَهٗ لَكُمْ وَ هُمْ لَهٗ نٰصِحُوْنَ﴿12﴾

    1. وَحَرَّمْنَااور ہم نے روک رکھا
    2. عَلَيْهِاس سے
    3. الْمَرَاضِعَدودھ پلانیوالی (دوائیاں)
    4. مِنْ قَبْلُپہلے سے
    5. فَقَالَتْوہ (موسی کی بہن) بولی
    6. هَلْ اَدُلُّكُمْکیا میں بتلاؤں تمہیں
    7. عَلٰٓي اَهْلِ بَيْتٍایک گھر والے
    8. يَّكْفُلُوْنَهٗوہ اس کی پرورش کریں
    9. لَكُمْتمہارے لیے
    10. وَهُمْاور وہ
    11. لَهٗاس کے لیے
    12. نٰصِحُوْنَخیر خواہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے اس کو پہلے ہی سے دودھ پلائیوں کے دودھ سے روک دیا تھا تو اس نے کہا کہ میں ایک ایسے گھر والوں کا آپ لوگوں کو پتہ دوں جو آپ لوگوں کی خاطر اس کو پالیں گے اور وہ اس کی بڑی خیر خواہی سے دیکھ بھال کریں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اللہ تعالیٰ کی ایک اور کار سازی اب یہ اس تدبیر کا ذکر ہو رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو ان کی والدہ کی طرف لوٹانے کے لئے اختیار ففرمائی۔ اوپر گزر چکا ہے کہ بچے کو محل میں بڑے چائو پیار سے لے جایا گیا۔ ظاہر ہے کہ سب سے پہلے اس بات کی فکر ہوئی ہوگی کہ بچے کو کسی دایہ کا دودھ پلایا جائے۔ دایہ بلائی گی تو حضرت موسیٰ نے اس کا دودھ نہیں پیا۔ دوسری بلائی گئی تیسری بلائی گی یکے بعد دیگرے کئی دایائیں بلائی گئیں لیکن حضرت موسیٰ نے کسی کی چھاتی منہ سے نہیں لگائی۔ اس صورت حال سے حضرت موسیٰ کی بہن نے فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے آگے بڑھ کر کہا اگر آپ لوگ کہیں تو میں ایک ایسے گھر والوں کا پتہ دوں جو پوری خیر خواہی اور محبت کے ساتھ بچے کی غور وپرداخت کریں گے۔ محل والے پریشان تو تھے ہی وہ فوراً راضی ہوگئے اور اس طرح حضرت موسیٰ کے اپنی ماں کے آغوش میں پہنچنے کی راہ کھل گئی۔