تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 28. Al-Qasas · Ayah 13
فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّهٖ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ وَ لِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ع﴿13﴾
- فَرَدَدْنٰهُتو ہم نے لوٹا دیا اس کو
- اِلٰٓى اُمِّهٖاس کی ماں کی طرف
- كَيْ تَقَرَّتاکہ ٹھنڈی رہے
- عَيْنُهَااس کی آنکھ
- وَلَا تَحْزَنَاور وہ غمگین نہ ہو
- وَلِتَعْلَمَاور تاکہ جان لے
- اَنَّکہ
- وَعْدَ اللّٰهِاللہ کا وعدہ
- حَقٌّسچا
- وَّلٰكِنَّاور لیکن
- اَكْثَرَهُمْان میں سے بیشتر
- لَا يَعْلَمُوْنَوہ نہیں جانتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف لوٹا دیا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائے اور تاکہ وہ اچھی طرح جان لے کہ اللہ کا وعدہ پورا ہو کے رہتا ہے لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
حضرت موسیٰ کا اپنی ماں کے آغوش میں ا صل نکتہ :
اس تدبیر سے خدائے کار ساز و کرم نے حضرت موسیٰ کو دریا سے نکلوایا اور پھر ان کو ان کی ماں کی گود میں پہنچا دیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ان کا غم دور ہوجائے۔
ولتعلم ان وعد اللہ حق ولکن اکثر ھم لایعلمون یہ اس وعدے کے ایفاء کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر اوپر آیت 7 میں گزرا کہ تم بچے کو بےخوف و خطر دریا میں ڈال دینا، ہم اس کی حفاظت کریں گے اور اس کو پھر تم سے ملائیں گے۔ فرمایا کہ اس طرح ہم نے اس کو دکھا دیا کہ ہم جو وعدہ کرتے ہیں خواہ اس کا ایفا بظاہر کتنا ہی مستبعد کیوں نہ نظر آئے لیکن ہم اس کو پورا کر کے رہتے ہیں اور ہماری تدبیر کبھی ناکام نہیں ہوتی ولکن اکثرھم لایعلمون یہ اصل نکتہ کی بات ارشاد ہوئی ہے کہ اکثر لوگ اپنی بلاوت کے سبب سے اس حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ وہ خدا کے وعدوں کو محض ہوائی باتیں خیال کرتے ہیں اور ان کے اعتماد پر کوئی بازی کھیلنے میں ان کو خسارہ اور خطرہ نظر آتا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے پورے ہوتے دیکھ لیں تب مانیں گے حالانکہ اس دنیا میں اصل امتحان تو یہی ہے کہ لوگ اپنے رب کے ان وعدوں اور وعیدوں کے لئے جئیں اور مریں جن کی حقیقت ابھی سامنے آئی ہے۔