Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 28. Al-Qasas · Ayah 35

  1. قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِیْكَ وَ نَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْكُمَا١ۛۚ بِاٰیٰتِنَاۤ١ۛۚ اَنْتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ﴿35﴾

    1. قَالَفرمایا
    2. سَنَشُدُّہم ابھی مضبوط کردیں گے
    3. عَضُدَكَتیرا بازو
    4. بِاَخِيْكَتیرے بھائی سے
    5. وَنَجْعَلُاور ہم عطا کریں گے
    6. لَكُمَاتمہارے لیے
    7. سُلْطٰنًاغلبہ
    8. فَلَا يَصِلُوْنَپس وہ نہ پہنچیں گے
    9. اِلَيْكُمَاتم تک
    10. بِاٰيٰتِنَآہماری نشانیوں کے سبب
    11. اَنْتُمَاتم دونوں
    12. وَمَنِاور جس
    13. اتَّبَعَكُمَاپیروی کی تمہاری
    14. الْغٰلِبُوْنَغالب رہو گے
Translation · Tadabbur-e-Quran
ارشاد ہوا کہ ہم تمہارے بھائی کو بھی تمہارے لئیقوت بازو بنائیں گے اور تمدونوں کو خاص دبدبہ عطا کریں گے تو وہ تم پر دست درازی نہ کرسکیں گے تو ہماری نشانیوں کے ساتھ جائو، تم دونوں اور جو تمہاری پیروی کریں گے، غالب رہو گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
سلطان سے مراد یہاں غلبہ دبدبہ اور ہیبت ہے۔ بایتنآ میں دو امکان ہیں۔ ایک یہ کہ اس کو نجعل تکما سلطانا سے متعلق مانیے یعنی ہم اپنے معجزات کے ذریعہ سے فرعونیوں پر تمہارا دبدبہ قائم کردیں گے۔ دوسرا یہ کہ اس سے پہلے کوئی محذوف مانیے جس کی مثال اوپر آیت 32 میں گزر چکی ہے۔ فرعونیوں پر حضرت موسیٰ کا رعب ان کو یہ اطمینان بھی دلا دیا کہ تم خاطر جمع رکھو۔ ہم فرعونیوں پر تمہارا ایسا رعب و دبدبہ قائم کردیں گے کہ وہ تم پر دست درازی کی جرأت نہ کرسکیں گے۔ چناچہ یہ واقعہ ہے کہ فرعون اور اس کے اعیان پہلے ہی مقابلے میں حضرت موسیٰ سے اتنے مرعوب ہوگئے کہ ان سے پیچھا چھڑانے کی دل تمنا رکھنے اور اپنی تمام سطوت و طاقت کے باوجود ان پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ کرسکے اس کا بڑا سبب جو تورات لے مطالعہ مطالعہ سے واضح ہوتا ہے یہ کہ فرعون اور اس کے اعیان حضرت موسیٰ کو جھوٹا آدمی نہیں سمجھتے تھے بلکہ ان کو یقین تھا کہ یہ سچے آدمی ہیں۔ لیکن ان کی دعوت چونکہ ان کو اپنے مفاد کے خلاف نظر آتی تھی اس وجہ سے اس کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ تاہم وہ جانتے تھے کہ اگر ہم نے ان کو کوئی گزند پہنچایا تو ہماری خیر نہیں ہے۔ اس وجہ سے تمام عناد و مخاصمت کے باوجود انہوں نے ان کے قتل کی جرأت نہیں کی۔ تورات سے یہاں تک معلوم ہوتا ہے کہ جب مصر پر کوئی آفت آتی تو وہ حضرت موسیٰ ہی سے درخواست کرتے کہ وہ اپنے رب سے دعا کریں کہ یہ آفت ٹل جائے۔