Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 28. Al-Qasas · Ayah 36

  1. فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ﴿36﴾

    1. فَلَمَّاپھر جب
    2. جَآءَهُمْآیا ان کے پاس
    3. مُّوْسٰيموسیٰ
    4. بِاٰيٰتِنَاہماری نشانیوں کے ساتھ
    5. بَيِّنٰتٍکھلی۔ واضح
    6. قَالُوْاوہ بولے
    7. مَا هٰذَآنہیں ہے یہ
    8. اِلَّامگر
    9. سِحْرٌایک جادو
    10. مُّفْتَرًىافترا کیا ہوا
    11. وَّاور
    12. مَا سَمِعْنَانہیں سنا ہے ہم نے
    13. بِهٰذَایہ۔ ایسی بات
    14. فِيْٓمیں
    15. اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِيْنَاپنے اگلے باپ دادا
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو جب موسیٰ ان کے پاس ہماری نہایت واضح نشانیوں کے ساتھ آیا تو انہوں نے کہا، یہ تو محض گھڑا ہوا جادو ہے اور ہم نے اس طرح کی باتیں اپنے اگلوں میں تو سنی نہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
جب حضرت موسیٰ ان روشن اور ناقابل تردید نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے پاس آئے تو انہوں نے ان کے معجزات کو تو جادو کا کرشمہ قرار دیا اور ان کی دعوت توحید کے خلاف یہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ یہ ہمارے آبائو اجاد کی روایات کے بالکل خلاف ہے۔ سحر مفتری یعنی حضرت موسیٰ یہ کرشمے دکھاتے تو ہیں اپنے جادو کے زور سے لیکن ہم پر رعب جمانے کے لئے جھوٹ دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ یہ معجزے ہیں جو ان کو خدا کی طرف سے عطا ہوئے ہیں۔ ماسمعنا بھذا فی ابآئنا الاولین کا اشارہ حضرت موسیٰ کی دعوت توحید کی طرف ہے۔ یعنی ان کا یہ دعویٰ کہ یہ رب العالمین کے رسول ہیں بالکل انوکھا اور نرالا دعویٰ ہے۔ ہم نے اپنے اگلوں سے کسی رب العالمین کا ذکر کبھی نہیں سنا۔ آگے آیت 38 میں اس کی وضاحت آرہی ہے۔ یہ بعینیہ وہی بات ہے جو دوسرے مقامات میں ماسمعنا بھذا فی الملۃ الاخرۃ کے الفاظ میں گزر چکی ہے۔