Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 28. Al-Qasas · Ayah 39

  1. وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ﴿39﴾

    1. وَاسْتَكْبَرَاور مغرور ہوگیا
    2. هُوَوہ
    3. وَجُنُوْدُهٗاور اس کا لشکر
    4. فِي الْاَرْضِزمین (دنیا) میں
    5. بِغَيْرِ الْحَقِّناحق
    6. وَظَنُّوْٓااور وہ سمجھ بیٹھے
    7. اَنَّهُمْکہ وہ
    8. اِلَيْنَاہماری طرف
    9. لَا يُرْجَعُوْنَنہیں لوٹائے جائیں گے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اس نے اور اس کی فوجوں نے زمین میں ناحق گھمنڈ کیا اور انہوں نے گمان کیا کہ ان کو ہماری طرف لوٹنا نہیں ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
واستکبر ھروجنودہ فی الارض بغیر الحق وظنوا انھما لینا لایرجعون 39 استکبار بغیر الحق بعی بغیر الحق کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔ وہی مفہوم استکبار بغیر الحق کا بھی ہے اس زمین و آسمان میں استکبار کا حق صرف اس کو حاصل ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور ان کے نظام کو چلا رہا ہے۔ جن کو نہ ان کے خلق میں کوئی دخل اور نہ جن کا ان کے تدبیر و انتظام میں کوئی حصہ اگر وہ اس میں اکڑیں اور اپنی مالکیت کے مدعی بن کر اٹھیں تو یہ انکی شامت کی دلیل ہے۔ اس قسم کے استکبار کو اس کائنات کا خالق زیادہ مہلت نہیں دیتا۔ یہ ابھی یہاں ملحوظ رہے کہ اس زمین کے بادشاہی حقیقی کے حکم و قانون کے خلاف کوئی قانون اس میں جاری کرنا بھی استکبار بغیر الحق، میں داخل ہے اور یہ ٹھیک ٹھیک اسوہ فرعون کی پیروی ہے۔ وظنوا انھم الینا لایرجعون یہ اس استکبار کی علت بیان ہوئی ہے کہ وہ اس وجہ سے اس میں مبتلا ہوئے کہ انہوں نے یہ گمان کیا کہ خدا نے ان کو شتر بےمہار بنا کر چھوڑا ہے اور ان کو اس کے سامنے کبھی جواب دہی کے لئے حاضر ہونا نہیں ہے۔