Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 28. Al-Qasas · Ayah 45

  1. وَ لٰكِنَّاۤ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ۚ وَ مَا كُنْتَ ثَاوِیًا فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۙ وَ لٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ﴿45﴾

    1. وَلٰكِنَّآاور لیکن ہم نے
    2. اَنْشَاْنَاہم نے پیدا کیں
    3. قُرُوْنًابہت سی امتیں
    4. فَتَطَاوَلَطویل ہوگئی
    5. عَلَيْهِمُان کی، ان پر
    6. الْعُمُرُمدت
    7. وَمَا كُنْتَاور آپ نہ تھے
    8. ثَاوِيًارہنے والے
    9. فِيْٓمیں
    10. اَهْلِ مَدْيَنَاہل مدین
    11. تَتْلُوْاتم پڑھتے
    12. عَلَيْهِمْان پر
    13. اٰيٰتِنَاہمارے احکام
    14. وَلٰكِنَّااور لیکن ہم
    15. كُنَّاہم تھے
    16. مُرْسِلِيْنَرسول بنا کر بھیجنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
لیکن ہم نے بہت سی قومیں اٹھائیں تو ان پر ایک زمانہ گزر گیا اور وہ ہماری یاد دہانی کو بھلا بیٹھے تو ہم نے تم کو رسول بنایا کہ ان کو یاد دہانی کرو) اور تم اہل مدین میں بھی ہماری آیتیں سناتے مقیم نہ تھے لیکن ہم تم کو ایک رسولبنانے والے تھے (سو ہم نے ان احوال سے تم کو باخبر کیا)
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اس آیت کے ابتدائی ٹکڑے کا تعلق اوپر والی آیت سے ہے یعنی تم ان احوال سے واقف نہیں تھے لیکن ہم نے تم کو واقف کیا اور یہ اس لئے کیا کہ موسیٰ کے بعد ہم نے بہت سی نسلیں پیدا کیں تو ان پر ایک طویل زمانہ گزر گیا اور لوگ ہماری اس کتاب کو بھلا بیٹھے جو ہم نے ان کو ہدایت و رحمت بنا کر عطا کی تھی اس وجہ سے ضروری ہوا کہ ہم تمہارے ذریعہ سے اس ہدایت کو از سر نو زندہ کریں۔ یہاں لطاول علیھم العمر کے بعد منسوالذکرا اس کے ہم معنی الفاظ بر بنائے قرینہ محذوف ہیں۔ وماکنت ثاویا فی امسل مدین یعنی جس طرح تم موسیٰ کو تورات دیئے جانے کے وقت طور کے جانب غربی میں موجود نہیں تھے اسی طرح مدین میں بھی موجود نہ تھے کہ حضرت موسیٰ کے اس دور کے حالات سے واقف ہو سکتے جو انہوں نے مدین میں گزاریا حضرت شعیب کی دعوت اور ان کی رقوم کے انجام سے واقف ہوتے۔ ان چیزوں میں سے تم کسی چیز سے بھی واقف نہ تھے لیکن ہم نے تم کو ان سے واقف کیا کہ جس طرح ہم نے پہلے رسول بھیجے اسی طرح تمہیں رسول بنائیں۔ کنا مرسین اسی طرح کا اسلوب جس طرح کنافاعلین ہے۔ یہ اسلوب کلام کس فیصلہ قطعی اور عزم جازم کے اظہار کے لئے آتا ہے۔ اھل مدین کے بعد تتلوا علیھما ایتنا کے اضافہ سے یہاں اشارہ حضرت شعیب کی سرگزشت کی طرف بھی ہوگیا جو قرآن کی متعدد سورتوں میں تفصیل سے بیان ہوئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہاں کے لوگوں پر انداز و تشبیر کا فرض انجام دینے پر تم تو مامور نہ تھے لیکن خدا نے تم کو وہاں کے حالات سے بھی باخبر کیا۔ یہ اس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا ہے کہ تم سے بھی وہی کام لے جو تم سیپہلے مبعوث ہونے والے رسولوں سے اس نے لیا۔ بدقسمت ہیں وہ لوگ جو اس حقیقت کو نہ سمجھیں۔