تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 28. Al-Qasas · Ayah 46
وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا وَ لٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ﴿46﴾
- وَمَا كُنْتَاور آپ نہ تھے
- بِجَانِبِکنارہ
- الطُّوْرِطور
- اِذْ نَادَيْنَاجب ہم نے پکارا
- وَلٰكِنْاور لیکن
- رَّحْمَةًرحمت
- مِّنْ رَّبِّكَاپنے رب سے
- لِتُنْذِرَتاکہ ڈر سناؤ
- قَوْمًاوہ قوم
- مَّآ اَتٰىهُمْنہیں آیا ان کے پاس
- مِّنْ نَّذِيْرٍکوئی ڈرانے والا
- مِّنْ قَبْلِكَآپ سے پہلے
- لَعَلَّهُمْتاکہ وہ
- يَتَذَكَّرُوْنَنصیحت پکڑیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور تم طور کے پہلو میں بھی موجود نہ تھے جب کہ ہم نے موسیٰ کو پکارا لیکن تم اپنے رب کی رحمت سے (مبعوث کئے گئے کہ) ایک ایسی قوم کو ہشیار کرو جن کے پاس تم سیپہلے کوئی ہشیار کرنے والا نہیں آیا تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یعنی جس طرح تم مدین میں موجود نہ تھے اسی طرح تم طور کے پہلو میں بھی اس وقت موجود نہ تھے جب ہم نے موسیٰ کو آواز دی ہے۔ یہ اشارہ ہے اس آواز دینے کی طرف جس کا ذکر آیت 3 میں گزرا ہے۔ فلما اتھا نودی من شاطی و الراد الایمن الآیۃ مطلب یہ ہے کہ تم ان ساری باتوں سے بیخبر تھے لیکن رحمت الٰہی مقتضی ہوئی کہ وہ تم کو رسول بنائے اس وجہ سے اس نے تم کو ان باتوں سے باخبر کیا اور یہ تمہاری رسالت کی نہایت واضح دلیلیں ہیں۔ رحمۃ سے پہلے ارسلناک یا اس کے ہم معنی کوئی فعل محذوف ہے۔
آنحضرت کی بعثت کا مقصد
لتذرقوما ما اتھم من نذیر من قبلک لعلھم یتذکرون یہ آنحضرت ﷺ کے اصل مقصد بعثت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سارا اہتمام اس لئے فرمایا کہ تم اس قوم کو اقدار کرو جس کے پاس اس سے پہلے کوئی نذیر نہیں آیا تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریں۔ یہ اشارہ ہی اسماعیل کی طرف ہے۔ یہ لوگ کتاب و شریعت سے بیخبر امی تھے۔ آنحضرت ﷺ سے پہلے ان کے اندر کسی رسول کی بعثت نہیں ہوتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کی اس دعا کے مطابق جس کی تفصیلات پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں، ان کی ہدایت کے لئے نبی امی ﷺ کو انہی کے انر سے مبعوث فرمایا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بہت بڑی رحمت ہے جو ان پر نازل ہوئی ہے اگر یہ اس کی قدر کریں اور اس کے اندر یہ اشارہ بھی ہے کہ اگر انہوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی تو یہ ان کے لئے بہت بڑی نعمت کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ اگر کوئی خدا کے بھیجے ہوئے منذر کے انذار سے یاد دہانی نہیں حاصل کرتی تو وہ تباہ کردی جاتی ہے۔