تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 28. Al-Qasas · Ayah 49
قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰى مِنْهُمَاۤ اَتَّبِعْهُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿49﴾
- قُلْفرما دیں
- فَاْتُوْاپس لاؤ
- بِكِتٰبٍکوئی کتاب
- مِّنْسے
- عِنْدِ اللّٰهِاللہ کے پاس
- هُوَوہ
- اَهْدٰىزیادہ ہدایت
- مِنْهُمَآان دونوں سے
- اَتَّبِعْهُمیں پیروی کروں اس کی
- اِنْ كُنْتُمْاگر تم ہو
- صٰدِقِيْنَسچے (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
ان سے کہو کہ اگر تم اس کو جھٹلاتے ہو تو اللہ کے پاس سے کوئی اور کتاب لائو جو ان دونوں سے زیادہ ہدایت بخشنے والی ہو، میں اسی کی پیروی کروں گا، اگر تم سچے ہو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قریش سے ایک مطالبہ
یعنی یہ لوگ مخالفت کے جوش میں حضرت موسیٰ کے معجزات اور ان کے فضل و کمال کا حوالہ تو دیتے ہیں لیکن یہ محض تمہارے اوپر اعتراض کے لئے ایک بہانہ ہے۔ اگر ان کی اس بات میں سچائی کا کوئی شائبہ ہے تو آخر یہ حضرت موسیٰ پر ایمان لانے والے کیوں نہ بنے ! تو ان سے کہو کہ اگر ان دونوں (یعنی قرآن اور تورات) سے بھی زیادہ ہدایت بخشنے والی کوئی کتاب ہے تو اس کو لائو، میں اس کی پیروی کرنے کو تیار ہوں۔
ہدایت کی جستجو فطرت کا تقاضا ہے
مطلب یہ ہے کہ ہدایت کی جستجو تو ہر سلیم الفطرت انسان کی فطرت کا ایک بدیہی تقاضا ہے جس کے اندر ہدایت کی جستجو نہیں ہے۔ وہ جو ہر انسانیت سے عاری ہے۔ فطرت کے اسی تقاضے کے تحت میں تورات کو بھی مانتا ہوں اور اس سے زیاہ ہدایت بخشنے والے قرآن کو بھی اور اگر تم ان دونوں سے بھی زیادہ ہدایت بخش کوئی کتاب پیش کرو تو میں اس کی پیروی کے لئے بھی آمادہ ہوں لیکن تمہارا ماجرا عجیب ہے کہ تم نے تو تورات کو مانتے، نہ قرآن کو البتہ مجھ سے معاوضہ کرنے کے لئے یہ اعتراض لے کر اٹھ کھڑے ہوئے ہو کہ میں اس طرح کے معجزے کیوں نہیں دکھاتا جس طرح کے معجزے حضرت موسیٰ نے دکھائے ان کنتم صدقین یعنی حضرت موسیٰ کی حمایت میں تمہارا یہ جوش و خروش محض ہدایت سے فرار کے لئے ایک بہانہ ہے ورنہ اس کے کیا معنی کہ پیرو تم تم نہ موسیٰ کے بنتے ہو اور نہ میرے، البتہ یہ اعتراض تمہیں کہ میرے اندر حضرت موسیٰ کے کمالات نہیں ہیں۔
یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ قرآن تورات کا مکذب نہیں بلکہ اس کا مصدق ہے۔ قرآن اگر تردید کرتا ہے تو صرف اس کی تحریفات کی تردید کرتا ہے۔ تورات کے مقابل میں قرآن کا دعویٰ یہ نہیں ہے کہ صرف وہی ہدایت کا صحیفہ ہے بلکہ وہ صرف اپنے اھدی و اقوام ہونے کا مدعی ہے۔ اس کی وجہ ایک تو یہ ہے کہ اس نے اللہ کی ہدایت کو تمام تحریفات سے پاک کر کے پیش کیا ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ خدا کی آخری اور کامل ہدایت کا صحیفہ ہے جس کی پیشین گوئی خود تورات میں بھی موجود ہے۔