تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 28. Al-Qasas · Ayah 50
فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْ١ؕ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ع﴿50﴾
- فَاِنْپھر اگر
- لَّمْ يَسْتَجِيْبُوْاوہ قبول نہ کریں
- لَكَتمہارے لیے (تمہاری بات)
- فَاعْلَمْتو جان لو
- اَنَّمَاکہ صرف
- يَتَّبِعُوْنَوہ پیروی کرتے ہیں
- اَهْوَآءَهُمْاپنی خواہشات
- وَمَنْاور کون
- اَضَلُّزیادہ گمراہ
- مِمَّنِ اتَّبَعَاس سے جس نے پیروی کی
- هَوٰىهُاپنی خواہش
- بِغَيْرِ هُدًىہدایت کے بغیر
- مِّنَ اللّٰهِاللہ سے (منجانب اللہ)
- اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
- لَا يَهْدِيہدایت نہیں دیتا
- الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَظالم لوگّ (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اگر وہ تمہارا یہ چیلنج قبول نہ کریں تو یقین کرو کہ بس یہ اپنی خواہشوں کے پیرو ہیں اور ان سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کے بغیر اپنی خواہش کے پیرو بنے ہوئے ہیں اللہ ظالموں کو ہرگز راہ یاب نہیں کرے گا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یعنی اگر تمہارے اس چیلنج کے جواب میں یہ ان دونوں سے زیادہ ہدایت بخش کوئی کتاب پیش بھی نہیں کرتے اور ان میں سے کسی کی پیروی کے لئے بھی تیار نہیں تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے نفس کی خواہشوں کی پیروی کرنا چاہتے ہیں تو جو اللہ کی ہدایت کے بغیر محض اپنی خواہشوں کا پیرو ہے اس سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہوگا ! نفس کی خواہشیں صرف اپنے مطالبے پورا کرنا چاتی ہیں۔ ان کے اندر حق و باطل اور خیر و شر میں امتیاز کی صلاحیت نہیں ہے اور بسا اوقات وہ اتنی زور آور ہوجاتی ہیں کہ بڑی آسانی سے انسان کی عقل کو بھی مغلوب کرلیتی ہیں اس وجہ سے انسان کے لئے فلاح کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ ان خواہشوں کی پیروی اللہ کی ہدیات کی روشنی میں کرے۔ اگر اس روشنی کے بغیر وہ ان کے پیچھے چل پڑے گا تو لازماً وہ ہلاکت کے گڑھے میں گرے گا۔
ان اللہ لایھدی القوم الظلمین یعنی اللہ تعالیٰ نے خواہشوں کے اسی مہلکہ سے بچانے ہی کے لئے اپنی ہدایت نازل فرمائی ہے تو بدقسمت ہے وہ جو اس ہدایت کی قدر نہ کرے اور اپنی باگ اندھی بہری خواہشوں میں پکڑا دے۔ ایسے لوگ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں اور سنت الٰہی کے بموجب وہ ہدایت سے محرم رہتے ہیں۔