تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 28. Al-Qasas · Ayah 5
وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَۙ﴿5﴾
- وَنُرِيْدُاور ہم چاہتے تھے
- اَنْکہ
- نَّمُنَّہم احسان کریں
- عَلَي الَّذِيْنَان لوگوں پر جو
- اسْتُضْعِفُوْاکمزور کر دئیے گئے تھے
- فِي الْاَرْضِزمین (ملک) میں
- وَنَجْعَلَهُمْاور ہم بنائیں انہیں
- اَئِمَّةًپیشوا (جمع)
- وَّنَجْعَلَهُمُاور ہم بنائیں انہیں
- الْوٰرِثِيْنَوارث (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم یہ چاہتے تھے کہ ان لوگوں پر احسان کریں جو ملک میں دبا کر رکھے گئے تھے اور ان کو پیشوا بنائیں اور ان کو وراثت بخشی
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اسرائیل کو پیشوائی طعنے کا خدائی فیصلہ
نرید سے پہلے عربی زبان کے معروف قاعدے کے مطابق فعل ناقص محذوف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ فرعون اور اس کے اعیان تو یہ ظلم و ستم ڈھائے ہوئے تھے اور ان کی پوری کوشش یہ تھی کہ وہ بنی اسرائیل کو کسی طرح ابھرنے دیں لیکن ہمارا ارادہ یہ تھا کہ ہم مظلوموں پر احسان کریں، ان کو پیشوائی کا منصب بخشیں اور ظالموں کو مٹا کر مظلوموں کو وراثت و خلافت عطا کریں۔ نجعلھم آئمۃ سے اشارہ اس دینی پیشوائی کی طرف ہے جو حضرت موسیٰ کی بعثت کے بعد بنی اسرائیل کو حاصل ہوئی اور نجعلھم الورثین سے خلافت و حکوتم راد ہے جو ان کو ارض فلسطین میں ملی اور حضرت سلیمن ؑ کے عہد میں جس کے حدود نہایت وسیع ہوگئے یہاں تک کہ مصر کی حکومت بھی ان کی ایک باجگزار ریاست بن گئی۔