Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 28. Al-Qasas · Ayah 51

  1. وَ لَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَؕ﴿51﴾

    1. وَلَقَدْ وَصَّلْنَااور البتہ ہم نے مسلسل بھیجا
    2. لَهُمُان کے لیے
    3. الْقَوْلَ(اپنا) کلام
    4. لَعَلَّهُمْتاکہ وہ
    5. يَتَذَكَّرُوْنَنصیحت پکڑیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے ان کے لئے کلام کے تسلسل کو قائم رکھا تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قرآن کی اہل کتاب کے لئے جانی پہچانی ہوئی چیز ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت ہی کی خاطر یہ اہتمام فرمایا کہ اپنی تعلیم و تذکیر کے سلسلہ کو کبھی منقطع نہیں ہنے دیا بلکہ اس کے تسلسل کو برابر قائم رکھا۔ حضرت موسیٰ کو جو کتاب عطا ہوئی جب اس کے حاملوں نے اس کو فراموش کردیا تو اللہ تعالیٰ نے بنی امی ﷺ کو اس نعمت سے سرفراز فرمایا۔ اوپر آیات 46-45 میں جو مضمون گزر چکا ہے ایک نئے اسلوب سے یہ اسی کا اعادہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن کوئی انوکھی اور متوحش ہونے کی چیز نہیں ہے بلکہ ایک جانی پہچانی ہوئی چیز ہے اس وجہ سے سب سے پہلے تو اہل کتاب کا فرض ہے کہ اس کو ہاتھوں ہاتھ لیں اس لئے کو جو نعمت ان کو پہلے نا تمام شکل میں ملی تھی اب وہ اپنی کامل شکل میں ان کو دی جا رہی ہے پھر بنی اسماعیل کی سعادت بھی اسی میں ہے کہ اس کو سینہ سے لگائیں اس لئے کہ اب اللہ تعالیٰ نے ان کو براہ راست اپنی نعمت سے نوازا ہے۔ اب تک ان کے اندر نہ کوئی رسول آیا تھا نہ ان کے لئے کوئی کتاب نازل ہوئی تھی۔