تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 28. Al-Qasas · Ayah 55
وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١٘ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١٘ لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ﴿55﴾
- وَاِذَاور جب
- سَمِعُواوہ سنتے ہیں
- اللَّغْوَبیہودہ بات
- اَعْرَضُوْاوہ کنارہ کرتے ہیں
- عَنْهُاس سے
- وَقَالُوْااور کہتے ہیں
- لَنَآ اَعْمَالُنَاہمارے لیے ہمارے عمل
- وَلَكُمْاور تمہارے لیے
- اَعْمَالُكُمْتمہارے عمل (جمع)
- سَلٰمٌسلام
- عَلَيْكُمْتم پر
- لَا نَبْتَغِيہم نہیں چاہتے
- الْجٰهِلِيْنَجاہل (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس میں سے خرچ کرتے ہیں اور جب یہ لغو بات سنتے ہیں تو اس سے اعراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال، پس ہمارا سلام لو، ہم جاہلوں سے الجھنا پسند نہیں ع کرتے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
مخالفین سے اعراض
یہ یدرئون بالحسنۃ السیۃ کی مزید وضاحت ہے کہ یہ لوگ جب مخالفین کی بکواس سنتے ہیں تو ان سے الجھنے کے بجائے اعراض کرتے ہیں وقالوا کنا اعمالنا ولکم اعمالکم یہ ان کے اعراض کا طریقہ بیان ہوا ہے کہ جب مخالفین و معترضین ان سے الجھتے ہیں تو وہ ان سے یہ کہہ کر پیچھا چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اچھا بھائی ! زیادہ بحث وجدال سے کیا فائدہ، ہم اپنے اعمال کے ذمہ دار ہیں، آپ اپنے اعمال کے ذمہ دار ہو، ہمیں ہماری اختیار کردہ راہ پر چلنے دو ، آپ اپنی راہ پر چلو !
سلم علیکم یہ سلام، مفارقت کے مفہوم میں ہے جس طرح حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے باپ کو سلام کیا تھا۔ یہ کسی سے پیچھا چھڑانے کا ایک نہایت شائستہ طریقہ ہے۔ لانبتغی الجھلین یہ ان کے طرز عمل کی تعبیر ہے کہ وہ دل میں یہ خیال کر کے جاہلوں سے الجھنے سے کچھ فائدہ نہیں، ان کو سلام کر کے رخصت ہوجاتے ہیں۔ اس طریقہ تعبیر کی متعدد مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں۔ بسا اوقات آدمی کا طرز عمل ہی اس کے قول کا قائم مقام بن جاتا ہے۔