تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 28. Al-Qasas · Ayah 59
وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۚ وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤى اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ﴿59﴾
- وَمَا كَانَاور نہیں ہے
- رَبُّكَتمہارا رب
- مُهْلِكَہلاک کرنے والا
- الْقُرٰىبستیاں
- حَتّٰىجب تک
- يَبْعَثَبھیجدے
- فِيْٓ اُمِّهَااس کی بڑی بستی میں
- رَسُوْلًاکوئی رسول
- يَّتْلُوْاوہ پڑھے
- عَلَيْهِمْان پر
- اٰيٰتِنَاہماری آیات
- وَمَا كُنَّااور ہم نہیں
- مُهْلِكِيہلاک کرنے والے
- الْقُرٰٓىبستیاں
- اِلَّامگر (جب تک)
- وَاَهْلُهَااسکے رہنے والے
- ظٰلِمُوْنَظالم (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور تیرا رب بستیوں کا ہلاک کرنے والا نہیں بنتا جب تک ان کی مرکزی بستی میں کوئی رسول نہ بھیج لے جو ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنا دے اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہیں بنتے مگر اسی وقت جب ان کے باشندے اپنے اوپر ظلم ڈھانے والے بن جاتے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ہلاکت پیغمبر کی بعثت کے بعد
یہ وہی انذار کا مضمون مزید واضح اور تیز ہوگیا ہے فرمایا کہ قوموں پر فیصلہ کن عذاب کے معامل میں سنت الٰہی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک کسی قوم کو ہلاک نہیں کرتا جب تک اس کی مرکزی بستی میں اپنا ایک رسول بھیج کر لوگوں کو اپنی آیات اچھی طرح سنا نہ دے۔ مطلب یہ ہے کہ جہاں تک قریش کا تعلق ہے اس سنت الٰہی کا ایک مرحلہ پورا ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی مرکزی بستی … مکہ … میں اپنا ایک رسول بھیج دیا جو رات دن لوگوں کو اللہ کی آیات کے ذریعہ سے انذار کر رہا ہے۔ اب عذاب کا انحصار ان کی رویہ پر ہے۔
ومالنا مھل کی القریٰ الا واھلھا ظلمون یہ اسی سنت الٰہی کے دوسرے مرحلے کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتا جب تک اس کے باشندے اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے نہ بن جائیں … ظلم ڈھانے سے مراد یہ ہے کہ رسول کی اس تمام تذکیر و تنبیہ کے بعد بھی وہ اپنے شرک و کفر پر اڑے ہی رہیں اور رسول کی تکذیب کردیں۔ مطلب یہ ہوا کہ اب قریش اور ان کے اغوان و انصار کے لئے یہ آخری مرحلہ درپیش ہے۔ اگر انہوں نے رسول کی قدر نہ پہچانی اپنی ضد پر اڑے رہ گئے، تو ایک خاص وقت تک مہلت دینے کے بعد وہ لازماً عذاب الٰہی کی زد میں آجائیں گے اور یہ خدا کی طرف سے ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم ڈھانے والے بنیں گے۔