تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 28. Al-Qasas · Ayah 61
اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِیْهِ كَمَنْ مَّتَّعْنٰهُ مَتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ثُمَّ هُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ﴿61﴾
- اَفَمَنْسو کیا جو
- وَّعَدْنٰهُہم نے وعدہ کیا اس سے
- وَعْدًا حَسَنًاوعدہ اچھا
- فَهُوَپھر وہ
- لَاقِيْهِپانے والا اس کو
- كَمَنْاس کی طرح جسے
- مَّتَّعْنٰهُہم نے بہرہ مند کیا اسے
- مَتَاعَسامان
- الْحَيٰوةِ الدُّنْيَادنیا کی زندگی
- ثُمَّپھر
- هُوَوہ
- يَوْمَ الْقِيٰمَةِروز قیامت
- مِنَسے
- الْمُحْضَرِيْنَحاضر کیے جانے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا وہ اس سے ہم نے ایک خوش آئند وعدہ کر رکھا ہے پس وہ اس موعود کو لازماً پا کے رہے گا اس کے مانند ہوگا جس کو ہم نے حیات دنیا کی متاع دی ہے پھر وہ قیامت کے دن حاضر کئے جانے والوں سے بننے والا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
احضار یہاں مجرموں کی طرح پکڑ کر حاضر کئے جانے کے مفہوم میں ہے اس وجہ سے محضرین کے اندر ذلت کے ساتھ حاضر کئے جانے کا مفہوم میں ہے اس وجہ سے محضرین کے اندر ذلت کے ساتھ حاضر کئے جانے کا مفہوم خود پیدا ہوگیا ہے۔
یعنی سوچہ کہ ایک تو وہ لوگ ہیں جن سے اللہ نے آخرت کی ابدی بادشاہی کا وعدہ کر رکھا ہے اور یہ ابدی بادشاہی لازماً پا کے رہیں گے، اس لئے کہ اللہ کے وعدے سے سچا وعدہ کس کا ہو سکتا ہے۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جن کو میں نے حیات چند روزہ کی متاع فانی تو دی ہے مگر بالآخر قیامت کے دن نیہات ذلت کے ساتھ وہ خدا کے حضور پیشی کے لئے گھسیٹ کر لائے جائیں گے۔ بتائو کہ ان میں سے بہتر اور لازوال (جیو وابقی) انجام والا کون ہوگا !