Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 28. Al-Qasas · Ayah 64

  1. وَ قِیْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا یَهْتَدُوْنَ﴿64﴾

    1. وَقِيْلَاور کہا جائے گا
    2. ادْعُوْاتم پکارو
    3. شُرَكَآءَكُمْاپنے شریکوں کو
    4. فَدَعَوْهُمْسو وہ انہیں پکاریں گے
    5. فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْاتو وہ جواب نہ دیں گے
    6. لَهُمْانہیں
    7. وَرَاَوُااور وہ دیکھیں گے
    8. الْعَذَابَعذاب
    9. لَوْ اَنَّهُمْکاش وہ
    10. كَانُوْا يَهْتَدُوْنَوہ ہدایت یافتہ ہوتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ان سے کہا جائے گا کہ اب اپنے شریکوں کو بلائو تو وہ ان کو پکاریں گے لیکن وہ ان کو جواب نہ دیں گے اور وہ عذاب سے دوچار ہوں گے، کاش وہ ہدایت اختیار کرنے والے بنے ہوتے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
مشرکین کے معبودوں کی بےحقیقی یعنی اپنے جن لیڈروں پر روہ اپنی گمراہی کی ذمہ داری ڈالنا چاہیں گے، جب وہ صاف صاف ان سے اعلان برأت کردیں گے تو ان سے پھر کہا جائے گا کہ اب بولو، تمہارے ان لیڈروں نے تو تم سے برأت کا اعلان کردیا تو تمہارے وہ معبود کہاں ہیں جن کی پرستش کرتے رہو ! اس وقت وہ گھبراہٹ میں اپنے ان شریکوں کو پکاریں گے جن کے وہ بت پوجتے رہے تھے۔ مثلاً لات، منات، عزیٰ اور نائلہ وغیرہ کو لیکن وہ ان کی کوئی فریاد سی نہیں کریں گے۔ اس لئے کہ ان کا سر سے کوئی وجود ہی نہیں ہوگا۔ وہ محض خیالی بستیاں تھیں۔ آخرت میں راز کھل جائے گا کہ انہوں نے محض گمان کی پرستش کی۔ یہ امر محلوظ رہے کہ یہاں ذکر مشرکین عرب کا ہے جن کے تمام اصنام والہ محض خیالی اور خود تراشیدہ تھے جن قوموں نے کسی واقعی ہستی کی پرستش کی ہے۔ مثلاً نصاریٰ جنہوں نے حضرت مسیح ؑ کی پرستش کی، ان کا ذکر قرآن میں الگ ہوا ہے کہ قیامت کے دن حضرت مسیح اپنے پرستاروں سے اعلان برأت کردیں گے کہ مجھے کچھ خبر نہیں کہ کچھ احمق لوگوں نے میری پرستش کی ہے۔ میں نے تو سب کو اللہ واحد کی بندگی کی دعوت دی تھی۔ وراوا العذاب یعنی جن کی شفاعت کی امیدوں پر جیے اور مرے ان کا لکارنا بالکل صدا الصبحرا ثابت ہوگا۔ البتہ خدا کا عذاب سامنے ہوگا اور اس سے انہیں سابقہ پیش آئے گا۔ لونھم کانوا یھتدون یہ ان کے حال پر اظہار حسرت و افسوس ہے کہ کاش وہ ہدایت حاصل کرنے بنے ہوتے کہ اس عذاب سے دوچار نہ ہوتے۔ اس سے اس عذاب کی ہولناکی اور بےپناہی واضح ہوتی ہے۔