تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 28. Al-Qasas · Ayah 83
تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًا١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ﴿83﴾
- تِلْكَیہ
- الدَّارُ الْاٰخِرَةُآخرت کا گھر
- نَجْعَلُهَاہم کرتے ہیں اسے
- لِلَّذِيْنَان لوگوں کے لیے جو
- لَا يُرِيْدُوْنَوہ نہیں چاہتے
- عُلُوًّابرتری
- فِي الْاَرْضِزمین میں
- وَاور
- لَا فَسَادًانہ فساد
- وَالْعَاقِبَةُاور انجام (نیک)
- لِلْمُتَّقِيْنَاور انجام (نیک)
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ دار آخرت ہم انہیں لوگوں کے لئے خاص رکھیں گے جو زمین میں غرور اور فساد کے چاہنے والے نہیں ہیں اور انجام کار کی کامیابی خدا ترسوں ہی کے لئے ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اوپر کی موعظت کا خلاصہ
یہ اوپر کی بیان کردہ موعظت کا خلاصہ سامنے رکھ دیا ہے کہ یہ دار آخرت جس کا ذکر ہوا، ہم نے ان لوگوں کے لئے خاص کر رکھا ہے جو خدا کی زمین میں استکبار اور فساد کے طالب نہیں بنیں گے بلکہ اس کے بندے بن کر زندگی بسر کریں گے اور اس کے اندر اس نظام حق و عدل کے حامی و علم بردار ہوں گے جس کو خدا نے پسند فرمایا ہے یہی لوگ متقی ہیں اور انجام کار فوز و فلاح ان متقیوں ہی کے لئے ہے۔ نجعلھا یہاں خاص کرنے کے مفہوم میں ہے اور یہ بات فحوائے کلام سے واضح ہے کہ اصل متقی وہی لوگ ہیں جن کے سینے استکبار سے اور جن کے اعمال فساد سے پاک ہوں۔