تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 29. Al-Ankaboot · Ayah 24
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ﴿24﴾
- فَمَا كَانَسو نہ تھا
- جَوَابَجواب
- قَوْمِهٖٓاس کی قوم
- اِلَّاسوائے
- اَنْیہ کہ
- قَالُواانہوں نے کہا
- اقْتُلُوْهُقتل کردو اس کو
- اَوْ حَرِّقُوْهُیا جلا دو اس کو
- فَاَنْجٰىهُسو بچا لیا اس کو
- اللّٰهُاللہ
- مِنَ النَّارِآگ سے
- اِنَّبیشک
- فِيْ ذٰلِكَاس میں
- لَاٰيٰتٍنشانیاں ہیں
- لِّقَوْمٍان لوگوں کے لیے
- يُّؤْمِنُوْنَجو ایمان رکھتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو اس کی قوم کا جواب صرف یہ ہوا کہ انہوں نے کہا کہ اس کو قتل کردو یا جلادو۔ توا للہ نے اس کو آگ سے نجات دے بیشک اس کے اندر بہت سے نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فما کان جواب قومہ الا ان قالوا اقتلوہاوحرقوہ فانعبہ اللہ من النار ان فی ذلک لایت لقوم یومنون (24)
بیچ میں تضمین کی جو آیات آگئی تھیں وہ اوپر کی آیت پر ختم ہوئیں۔ اب اصلی سرگزشت کا بقیہ حصہ پھر سامنے آگیا۔ فرمایا کہ حضرت ابراہیم ؑ کی اس درد مندانہ دعوت کا جواب ان کی قوم نے دیا تو یہ دیا کہ اس شخص کو یا تو قتل کردو یا جلا دو۔ بالآخر اسی دوسرے رائے پر اتفاق ہوا اور قرآن میں دوسری جگہ یہ تصریح ہے کہ اس کے لئے ایک خفیہ اسکیم بنائی گئی لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کو دشمنوں کے اس شر سے بچا لیا۔ فرمایا کہ اس واقعہ کے اندر ان لوگوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں جو ایمان کی راہ اختیار کریں۔
اس میں پہلی نشانی تو اس بات کی ہے کہ جو لوگ ایمان کی راہ اختیار کریں وہ اس حقیقت کو یاد رکھیں کہ اس راہ میں بہت سے سخت امتحانات پیش آتے ہیں جن سے گزرے بغیر کوئی شخص ایمان کے تقاضوں سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتا۔ حضرت ابراہیم ؑ جیسے جلیل القدر پیغمبر کو اس راہ میں آگ کے الائو کے اندر سے ہو کر گزرنا پڑا ہے۔
دوسری نشانی اسی بات کی ہے کہ اس راہ میں علائق کی زنجیریں کوئی اہمیت نہیں رکھتی ہیں۔ حضرت ابراہیم کے باپ…آزر…نے ان پر پورا دبائو ڈالا کہ ان کو ایمان کی راہ سے روک دے لیکن حضرت ابراہیم ؑ اس حقیقت سے اچھی طرح واقف تھے کہ دین کے معاملہ میں ان کا باپ خدا کے ہاں ان کی طرف سے جواب نہیں ہوگا انہیں اپنی جواب دہی خود کرنی ہوگی اس وجہ سے باوجود اس کے کہ وہ اپنے باپ کے لئے اپنے سینہ میں ایک نہایت درد مند دل رکھتے تھے لیکن وہ اس کے مقابل میں اپنے دین کی حفاظت کے لئے علائق محبت کی تمام زنجیریں توڑ کر سینہ سپر ہوگئے۔
تیسری نشانی اس میں اس بات کی ہے کہ جو لوگ حق کو پسپا کرنے کے لئے اپنا زور زور اور اپنا اختیار و اقتدار استعمال کرتے ہیں، اگرچہ ایک حد تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو ذور آزمائی کی مہلت ملتی ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے قانونِ آزمائش کا یہ ایک لازمی تقاضا ہے، لیکن اس مہلت کی ایک خاص حد ہے۔ اگر اہل حق اس کے مقابل میں ڈٹ جاتے ہیں تا بالآخر فتحمند وہی ہوتے ہیں اور اہل باطل دنیا اور آخرت دونوں میں سوار ہوتے ہیں۔