تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 29. Al-Ankaboot · Ayah 23
وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآئِهٖۤ اُولٰٓئِكَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿23﴾
- وَالَّذِيْنَاور وہ لوگ جنہوں نے
- كَفَرُوْاانکار کیا
- بِاٰيٰتِ اللّٰهِاللہ کی نشانیوں کا
- وَلِقَآئِهٖٓاور اس کی ملاقات
- اُولٰٓئِكَیہی ہیں
- يَئِسُوْاوہ ناامید ہوئے
- مِنْ رَّحْمَتِيْمیری رحمت سے
- وَاُولٰٓئِكَاور یہی ہیں
- لَهُمْان کے لیے
- عَذَابٌعذاب
- اَلِيْمٌدردناک
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جن لوگوں نے اللہ کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا تو وہی لوگ ہیں جو میری رحمت سے محروم ہوئے اور وہی لوگ ہیں جن کے لئے ایک درد ناک عذاب ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
والذین کفروا بایت اللہ ولقائہ اولئک یئسوا من رحمتنی اولئک لھم عذبا الیم (23)
یئسعا یہا حرموا اور بعدوا کے معنی میں ہے۔ یعنی وہ لوگ ہمیشہ کے لئے خدا کی رحمت و عنایت سے محروم ہوئے۔ اس لفظ میں حرموا کے بالمقابل زیادہ زو رہے۔ بعض اوقات کسی چیز سے محروم اس کے دوبارہ حصول کی امید کے ساتھ ہوتی ہے۔ یہ محرومی زیادہ دل شکنی نہیں ہوتی۔ کفار کو آخرت میں خدا کی رحمت سے جو محرومی ہوگی وہ کامل مایوسی کے ساتھ ہوگی۔ ان کے لئے امید کے دروازے ہمیشہ کے واسطے بند ہوجائیں گے۔
فرمایا کہ جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا، جو آج ان کو سنائی جا رہی ہیں اور خدا کے حضور پیشی کا، جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے، انکار کیا وہ یاد رکھیں کہ وہ ہمیشہ کے لئے میری رحمت سے مایوس و نامراد ہوئے۔ اس رحمت کا استحقاق پیدا کرنے کا موقع صرف اسی دنیا کی زندگی میں ہے۔ جو لوف یہ فرصت رائگاں کردیں گے ان کے لئے اس کو کھو کر پاسکنے کا کوئی امکان نہیں۔