Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 29. Al-Ankaboot · Ayah 4

  1. اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ﴿4﴾

    1. اَمْ حَسِبَکیا گمان
    2. الَّذِيْنَوہ لوگ جو
    3. يَعْمَلُوْنَکرتے ہیں
    4. السَّيِّاٰتِبرے کام
    5. اَنْکہ
    6. يَّسْبِقُوْنَاوہ ہم سے باہر بچ نکلیں گے
    7. سَآءَبرا ہے
    8. مَا يَحْكُمُوْنَجو وہ فیصلہ کر رہے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا جو لوگو برائیوں کا ارتکاب کر رہے ہیں وہ گمان رکھتے ہیں کہ ہمارے قابو سے باہر نکل جائیں گے ! بہت ہی بُرا فیصلہ ہے جو وہ کر رہے ہیں !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ام حسب الذین یعملون السیات ان یسبقونا، ساء ما یعکمون۔ (4) ایمان کا دعوے ٰ کرنے والوں کو متنبہ کرنے کے بعد یہ ان لوگوں کو بھی متنبہ فرما دیا جو کمزور مسلمانوں کو ظلم و ستم کا ہدف بنائے ہوئے تھے۔ فرمایا اگر ان لوگوں نے یہ گمان کر رکھا یہ کہ یہ اسی طرح ظلم و ستم کرنے کے لئے چھوڑے رکھے جائیں گے اور کبھی ہماری گرفت میں نہیں آئیں گے تو ان کا یہ گمان بالکل غلط ہے۔ یعملون السیات اگرچہ نفظاً عام ہے لیکن اشارہ انہی ناہنجار لوگوں کی طرف ہے جو بےمسلمانوں پر ظلم ڈھا رہے تھے اور خدا کی ڈھیل سے شہ پاکر دن پر دن دلیر ہوتے جا رہے تھے۔ فرمایا کہ یہ لوگ اگر اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ خدا اسی طرح ان کو ڈھیل دیے رکھے گا تو وہ بڑی سخت غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ ساء ما یعکمون۔ یعنی ان کا یہ فیصلہ خدا کے بارے میں نہایت برا فیصلہ ہے خدا کو اگر انہوں نے کمزور سمجھا ہے کہ وہ ان پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا جب بھی ان کا یہ فیصلہ نہایت برا ہے اور اگر انہوں نے اپنی ان تمام ستم رانیوں پر اس کو راضی اور اس معاملے سے بالکل بےتعلق و بےپروا سمجھ رکھا ہے جب بھی ان کا یہ فیصلہ نہایت غلط اور نہایت بُرا ہے۔