Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 29. Al-Ankaboot · Ayah 63

  1. وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۠ع﴿63﴾

    1. وَلَئِنْاور البتہ اگر
    2. سَاَلْتَهُمْتم ان سے پوچھو
    3. مَّنْکس نے
    4. نَّزَّلَاتارا
    5. مِنَ السَّمَآءِآسمان سے
    6. مَآءًپانی
    7. فَاَحْيَاپھر زندہ کردیا
    8. بِهِاس سے
    9. الْاَرْضَزمین
    10. مِنْۢ بَعْدِبعد
    11. مَوْتِهَااس کا مرنا
    12. لَيَقُوْلُنَّالبتہ وہ کہیں گے
    13. اللّٰهُ ۭاللہ
    14. قُلِآپ کہہ دیں
    15. الْحَمْدُ لِلّٰهِ ۭتمام تعریفیں اللہ کے لیے
    16. بَلْلیکن
    17. اَكْثَرُهُمْان میں اکثر
    18. لَا يَعْقِلُوْنَوہ عقل سے کام نہیں لیتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمان سے کس نے پانی اتارا، پس اس سے زمین کو زندہ کیا، اس کے مردہ ہوچکنے کے بعد، تو وہ جواب دیں گے کہ اللہ نے۔ کہو، شکر کا سزاوار اللہ ہے۔ بلکہ ان کے اکثر عقل سے کام نہیں لیتے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ولئن سالتھم من نزل من السماء ماء فا حیا بہ الارض من بعد موتھا لیتولن اللہ قل الحمد للہ بل اکثرھم لا یعقلون (63) اسی طرح اگر ان سے سوال کرو کہ وہ کون ہے جو آسمان سے پانی اتارتا ہے اور اس سے زمین کو، اس کے خشک اور بےآب وگیاہ ہوجانے کے بعد ازسر نو زندہ و شاداب کردیتا ہے تو اس سوال کا جواب بھی وہ یہی دیں گے کہ اللہ ! ان سے کہو، اگر اس بات کا تم کو اقرار ہے تو پھر تو شکر کا سزا وار بھی اللہ تعالیٰ ہی ہوا تو آخر تم اس کے سوا دوسروں کی عبادت کس حق کی بنا پر کرتے ہو ! مشرکین عرب ابرو ہوا پر بھی حقیقی تصرف اللہ تعالیٰ ہی کا مانتے تھے لیکن اس کے باوجود وہ رزق و فضل کو دوسروں کی طرف منسوب اور ان کی عبادت کرتے۔ اس طرح وہ ایک شدید قسم کے تضاد فکر میں مبتلا تھے حالانکہ جب یہ نعمتیں اللہ تعالیٰ ہی کی بخشی ہوئی ہیں تو شکر کا حقدار بھی وہی ہوا اور یہی شکر تمام عبادت و اطاعت کا محرک اوّل ہے۔ اس کی وضاحت ہم سورة ٌ فاتحہ کی تفسیر میں کرچکے ہیں۔ بل اکثرھم لا یعقلون۔ یعنی یہ تضاد فکر ہے تو نہایت بھونڈے قسم کا لیکن ان کی اکثرت اس پر غور نہیں کرتی۔