Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 3. Aal-i-Imraan · Ayah 101

Tafseer
  1. وَ كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ وَ اَنْتُمْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ اٰیٰتُ اللّٰهِ وَ فِیْكُمْ رَسُوْلُهٗ١ؕ وَ مَنْ یَّعْتَصِمْ بِاللّٰهِ فَقَدْ هُدِیَ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۠ع﴿101﴾

    1. وَكَيْفَاور کیسے
    2. تَكْفُرُوْنَتم کفر کرتے ہو
    3. وَاَنْتُمْجبکہ تم
    4. تُتْلٰىپڑھی جاتی ہیں
    5. عَلَيْكُمْتم پر
    6. اٰيٰتُآیتیں
    7. اللّٰهِاللہ
    8. وَفِيْكُمْاور تمہارے درمیان
    9. رَسُوْلُهٗاس کا رسول
    10. وَمَنْاور جو
    11. يَّعْتَصِمْمضبوط پکڑے گا
    12. بِاللّٰهِاللہ کو
    13. فَقَدْ ھُدِيَتو اسے ہدایت دی گئی
    14. اِلٰىطرف
    15. صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍسیدھا راستہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور تمہارا کفر میں پڑنا کس طرح جائز ہے جب کہ تم کو اللہ کی آیات سنائی جا رہی ہیں اور تمہارے اندر اس کا رسول موجود ہے اور جو اللہ کو مضبوطی سے پکڑے گا تو وہی ہے جس کو صراط مستقیم کی ہدایت ملی۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فتنوں سے محفوظ رہنے کی تدبیریں : اعتصام کے معنی کسی شے کو مضبوطی سے پکڑنے اور تھامنے کے ہیں۔ اعتصام باللہ کے معنی اللہ کے احکام و ہدایات اور اس کی کتاب پر مضبوطی سے نرم و گرم ہر طرح کے حالات میں مخالفت و موافقت سے بےنیاز ہو کر قائم رہنا ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ یوں تو کفر و ارتداد ہر حالت میں انسان کی بدبختی اور اس کی شامت کی دلیل ہے لیکن آج تم نے اگر یہ راہ اختیار کی جب کہ اللہ کی آیات تمہیں سنائی جا رہی ہیں اور خدا رسول تمہارے اندر موجود ہے تو یہ محرومی و بدبختی کی انتہا ہوگی۔ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تم نے پورے دن کی روشنی میں ٹھوکر کھائی اور اپنے لیے عذر کا کوئی شائبہ بھی باقی نہ چھوڑا۔ پھر اس قسم کی ٹھوکر سے بچنے کی تدبیر بتا دی کہ اگر چاہتے ہو کہ تمہارے قدم جادہ مستقیم پر استوار رہیں اور تمہارے مخالفین تمہیں ٹھوکر نہ کھلا سکیں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ کو مضبوط پکڑو، یعنی اللہ کی جو آیات و ہدایات تمہیں سنائی جا رہی ہیں۔ انہیں حرز جان بناؤ اور تمام مخالفتوں اور تمام خاکبازیوں کے علی الرغم ان پر قائم و دائم رہو۔
Tadabbur-e-Quran - 3 : 101