Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 3. Aal-i-Imraan · Ayah 180

  1. وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ١ؕ سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ع﴿180﴾

    1. وَلَااور نہ
    2. يَحْسَبَنَّہرگز خیال کریں
    3. الَّذِيْنَجو لوگ
    4. يَبْخَلُوْنَبخل کرتے ہیں
    5. بِمَآمیں۔ جو
    6. اٰتٰىھُمُانہیں دیا
    7. اللّٰهُاللہ
    8. مِنْ فَضْلِھٖاپنے فضل سے
    9. ھُوَوہ
    10. خَيْرًابہتر
    11. لَّھُمْان کے لیے
    12. بَلْبلکہ
    13. ھُوَوہ
    14. شَرٌّبرا
    15. لَّھُمْانکے لیے
    16. سَيُطَوَّقُوْنَعنقریب طوق پہنایا جائے گا
    17. مَاجو
    18. بَخِلُوْاانہوں نے بخل کیا
    19. بِهٖاس میں
    20. يَوْمَدن
    21. الْقِيٰمَةِقیامت
    22. وَلِلّٰهِاور اللہ کے لیے
    23. مِيْرَاثُوارث
    24. السَّمٰوٰتِآسمانوں
    25. وَالْاَرْضِاور زمین
    26. وَاللّٰهُاور اللہ
    27. بِمَا تَعْمَلُوْنَجو تم کرتے ہو
    28. خَبِيْرٌباخبر
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جو لوگ بخالت کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہ ہی نے ان کو اپنے فضل میں سے بخشی ہے، یہ نہ خیال کریں کہ یہ ان کے حق میں بہتر ہے۔ بلکہ یہ ان کے حق میں بہت برا ہے۔ جس چیز میں وہ بخالت کریں گے اس کا قیامت کے دن ان کو طوق پہنایا جائے گا۔ اور ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی وراثت اور اللہ جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے باخبر ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
منافقین کی کمزوری انفاق کے معاملے میں :۔ اہل نفاق جس طرح اپنی جان کے معاملے میں چور ہوتے ہیں اسی طرح اپنے مال کے معاملے میں بھی چور ہوتے ہیں اس وجہ سے ان کی اس کمزوری پر بھی تنبیہ فرمائی تاکہ مسلمان اس بیماری سے بھی ہوشیار رہیں۔ فرمایا کہ جو لوگ خدا کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنے سے دریغ کر رہے ہیں در آنحالیکہ وہ خدا ہی کا بخشا ہوا ہے اور خدا نے ان کو کسی استحقاق کی بنا پر نہیں بلکہ محض اپنے فضل سے بخشا ہے، وہ یہ نہ سمجھیں کہ اپنے مستقبل کی مصلحت کے لیے وہ کوئی بڑا مفید کام کر رہے ہیں۔ خدا کے حقوق و فرائض سے چرا چرا کر جو مال جمع کیا جا رہا ہے وہ قیامت کے دن ان کی گردنوں کا بوجھل طو وق بنے گا اور سونے کے جو طوق آج زینت و فخر کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں یہ سانپوں اور اژدہوں کی شکل میں تبدیل ہوجائیں گے۔ مزید فرمایا کہ آسمان و زمین کی ساری میراث بالآخر خدا ہی کی طرف پلٹ جانے والی ہے۔ جو کچھ جس کو ملا، خدا ہی سے ملا ہے اور پھر یہ سب کچھ اسی کی طرف لوٹ جانے والا ہے۔ یہ ساری چیزیں خدا نے ہمیں بطور امانت بخشی ہیں اور مقصود اس سے ہمارا امتحان ہے۔ وہ اس بات سے اچھی طرح باخبر ہے کہ ہم نے اس کی بخشی ہوئی نعمتوں میں کس طرح کا تصرف کیا ہے اور اپنے اس علم کے مطابق وہ جزا یا سزا دے گا۔