Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 3. Aal-i-Imraan · Ayah 198

  1. لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا نُزُلًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّلْاَبْرَارِ﴿198﴾

    1. لٰكِنِلیکن
    2. الَّذِيْنَجو لوگ
    3. اتَّقَوْاڈرتے رہے
    4. رَبَّھُمْاپنا رب
    5. لَھُمْان کے لیے
    6. جَنّٰتٌباغات
    7. تَجْرِيْبہتی ہیں
    8. مِنْسے
    9. تَحْتِھَاان کے نیچے
    10. الْاَنْھٰرُنہریں
    11. خٰلِدِيْنَہمیشہ رہیں گے
    12. فِيْھَااس میں
    13. نُزُلًامہمانی
    14. مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِسے اللہ کے پاس
    15. وَمَااور جو
    16. عِنْدَ اللّٰهِاللہ کے پاس
    17. خَيْرٌبہتر
    18. لِّلْاَبْرَارِنیک لوگوں کے لیے
Translation · Tadabbur-e-Quran
البتہ وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لیے ایسے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ اس میں ہمشیہ رہیں گے، یہ اللہ کی طرف سے ان کے لیے پہلی میزبانی ہوگی اور جو کچھ اللہ کے پاس اس کے وفادار بندوں کے لیے ہے وہ کہیں بہتر ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
نُزُلٌ۔ اس ضیافت و میزبانی کو کہتے ہیں جو کسی مہمان کی آمد پر سب سے پہلے پیش کی جاتی ہے اوپر کی آیات میں کمزور مظلوم مسلمانوں کی جو حوصلہ افزائی فرمائی گئی ہے اسی مضمون کی یہ مزید تائید ہے۔ مسلمانوں کو بالخصوص کمزور اور مظلوم مسلمانوں کو خطاب کر کے یہ اطمینان دلایا جا رہا ہے کہ اس وقت کفار کو ملک جو غلبہ اور زور حاصل ہے اس سے کوئی مغالطہ نہیں ہونا چاہئے۔ یہ چمک دمک محض چند روزہ ہے۔ اس کے بعد ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ نہایت برا ٹھکانا ہے۔ حقیقی اور ابدی کامیابی انہی لوگوں کے لیے ہے جو تقوی اختیار کریں گے اور تقوی پر قائم رہٰں گے۔ ان کے لیے پہلی پیشکش جو ہوگی وہ جنت کی ہوگی اور ایسے وفادار بندوں کے لیے ان کے رب کے پاس مزید جو کچھ ہے وہ ایک سے ایک بڑھ کر ہے۔