Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 1

  1. الٓمّٓۚ﴿1﴾

    1. الٓمّٓالف۔ لام۔ میم
Translation · Tadabbur-e-Quran
الم
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
1۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت الم (1) یہ ہمارے نزدیک، جیسا کہ ہم جگہ جگہ وضاحت کرتے آرہے ہیں، مستقل جملہ ہے۔ یعنی یہ سورة الم ہے۔ یہ اس سورة کا اصل قرآنی نام ہے۔ یہی نام سابق سورة کا بھی ہے۔ قرینہ ہے اس بات کا کہ عمود کے اعتبار سے دونوں سورتوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ پچھلی سورة میں اس کائنات کا جو فلسفہ بیان ہوا تھا اور اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر رسول اور اس کے ساتھیوں کے لئے دنیا اور آخرت میں جس نصرت الٰہی اور غلبہ کی بشارت دی گئی تھی۔ ایک خاص واقعہ کو جس کی تفصیل آگے ارہی ہے، دلیل بنا کر کفار نے اس کا خوب مذاق اڑایا اور اس طرح ان کے زعم میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی تکذیب کے لئے ان کو ایک ایسی شہادت مل گئی جس پر وہ بہت مسرور ہوئے اور قدرتی طور پر ان کی یہ شادمانی مسلمانوں کے لئے باعث رنج ہوئی۔ قرآن نے اس سورة میں اسی واقعہ کو تمہید بنا کر ان تمام پہلوئوں کی وضاحت فرمائی جن سے بیخبر ی کی بنا پر کفار مغالطہ میں مبتلا ہوئے اور جن کے اچھی طرح ذہن نشین نہ ہونے کے سبب سے مسلمانوں کی ایک جماعت کو بھی خلجان لاحق ہوا۔ اس طرح یہ سورة گویا سابق سورة کے مطالب کو ازسر نو مدلل و مبرہن اور ان تمام شبہات کا ازالہ کر رہی ہے جو اس سلسلہ میں پیدا ہوئے یا پیدا ہوسکتے تھے۔ گویا دونوں سورتوں میں زیر بحث موضوع ایک ہی ہے۔ فرق صرف پہلو اور نہج استدلال کا ہے۔ ان دونوں میں نبی ﷺ کی رسالت آپ کے پیش کردہ اصولوں کی صداقت کے پہلو سے واضح کی گئی ہے۔