Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 2

  1. غُلِبَتِ الرُّوْمُۙ﴿2﴾

    1. غُلِبَتِمغلوب ہوگئے
    2. الرُّوْمُرومی
Translation · Tadabbur-e-Quran
رومی مغلوب ہوئے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
غلبت الروم۔ فی ادنی الارض و ھم من بعد غلبھم سیغلبون فی بضع سنین للہ الامر من قبل ومن بعد ویومئذ یفرح المومنون (2۔ 4) ادنی الارض سے مراد یہاں شام و فلسطین کی سرزمین ہے جو عرب کی سرزمین سے بالکل متصل تھی۔ اس علاقے پر اس زمانے میں رومیوں کی حکومت تھی لیکن وہ اس وقت سخت اندرونی خلفشار میں مبتلا تھے۔ اس سے فائدہ اٹھا کر ایرانیوں نے ان پر حملہ کردیا اور ان علاقوں سے ان کو بےدخل کردیا۔ یہ واقعہ 214 ء؁ یعنی نبی ﷺ کی بعثت کے چھٹے یا ساتویں سال پیش آیا۔ وھم من بعد غلبھم سیغلبون۔ غلب اپے مفعول کی طرف مضاف ہے۔ یہ قرآن نے پیش گوئی فرمائی کہ اگرچہ رومی اس وقت مغلوب ہوگئے ہیں لیکن یہ مغلوبیت ان کی عارضی ہے، بہت جلد وہ پھر ایرانیوں پر غالب ہوجائیں گے۔ ’ فی یضع سنین ‘ یعنی اس انقلاب میں، جس کی قرآن خبر دے رہا ہے، زیادہ دن نہیں لگیں گے۔ صرف چند سالوں کے اندر اندر یہ واقع ہوجائے گا۔ اگرچہ ’ سیغلبون ‘ کے اندر بھی مستقبل قریب کا مفہوم موجود تھا لیکن اس میں ایک قسم کا ابہام تھا اس۔۔۔ کو رفع کرنے کے لئے اس کے ساتھ فی بضع سنین کی قید لگا دی جس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ انقلاب زیادہ سے زیادہ اگلی دہائی کے اندر واقع ہوجائے گا۔ لفظ بضع کا اطلاق دس سے زیادہ کی تعداد کے لئے نہیں ہوتا۔ اس تعین یا تصریح کی ضرورت اس وجہ سے تھی کہ اس واقعہ کو۔ جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، مشرکین نے اپنے فکر و فلسفہ کی صحت کی دلیل بنا لیا تھا جس سے قدرتی طور پر مسلمانوں کو صدمہ پہنچا۔ قرآن نے اس موکد پیشین گوئی کے ذریعے سے ایک طرف تو مسلمانوں کو اطمینان دلایا کہ تمہارے مخالفوں نے اس واقعہ کو اپنے حق میں جو دلیل بنایا ہے اور جس سے وہ بہت خوش ہیں، ان کی یہ خوشی چند روزہ ہے، بہت جلد یہ غم سے بدل جائے گی۔ دوری طرف مشرکین کے سامنے آنحضرت ﷺ کی صداقت کے جانچنے کے لئے ایک کسوٹی رکھ دی کہ یہ پیشین گوئی آپ کی نبوت کی ایک دلیل ہوگی۔ تاریخوں سے ثابت ہے کہ اس واقعہ کے تقریباً نو سال بعد ہرقل نے رومیوں کو ازسر نو منظم کرکے ایرانیوں کو سخت شکست دی، اور ان سے نہ صرف اپنے علاقے واپس لے لیے بلکہ ان کے بھی بہت سے علاقوں پر قبضہ کرلیا اور اس طرح قرآن کی پیشین گوئی حرف بحرف پوری ہوگئی۔ ’ للہ الامر من قبل ومن بعد ‘ یعنی جو کچھ ہوا وہ بھی اللہ ہی کے حکم سے ہوا ہے اور آگے جو کچھ ہوگا وہ بھی اللہ ہی کے حکم سے ہوگا۔ قوموں کی زندگی میں اتنے بڑے بڑے انقلابات محض اتفاقات زمانہ اور گردش روزگار سے نہیں پیش آتے بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے پیش آتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کا ہر حکم حق و عدل پر مبنی ہوتا ہے۔ رومیوں نے جب اپنے اندر وہ خرابیاں پیدا کرلیں جو کسی قوم کو خدا کے تازیانہ تنبیہ کا مستحق بناتی ہیں تو وہ اس سے مجردا اس بنیاد پر نہیں بچ سکتے تھے کہ وہ بعض اچھے عقائد و رسوم کا اظہار کرتے ہیں۔ صرف رسوم و عقائد اجتماعی زندگی کے بنانے بگاڑنے میں اصلی دخل نہیں رکھتے بلکہ اصل شے وہ انفرادی و اجتماعی کردار ہے جو ان عقائد و رسوم سے پیدا ہوتا ہے یا پیدا ہونا چاہیے۔ اگر وہ کردار نہ پیدا ہو تو محض کھوکھلے رسوم کچھ بھی کارآمد نہیں ہوتے۔ چناچہ رومیوں کا یہی کھوکھلا پن مجوسیوں کے آگے ان کی شکست کا سبب ہوا اور اب مستقبل قریب میں ان کے لئے جس غلبہ کی بشارت دی جا رہی ہے تو وہ بھی اللہ ہی کے حکم سے ہوگا اور اللہ کا ہر حکم عدل و حق پر مبنی ہوتا ہے اس وجہ سے لازماً یہ غلبہ اس وجہ سے ان کو حاصل ہوگا اور اللہ کا ہر حکم عدل و حق پر مبنی ہوتا ہے اس وجہ سے لازماً یہ غلبہ اس وجہ سے ان کو حاصل ہوگا کہ وہ اپنے حالات کی اصلاح کرکے ایرانیوں کے مقابل میں اپنے کو اللہ کی مدد کا مستحق بنائیں گے۔ ’ ویومئذ یفرح المومنون۔ اس دن مسلمان خوش ہوں گے۔ اس وجہ سے بھی کر جو لوگ مذہب اور فکرو فلسفہ میں ان سے قریب تر ہیں ان کو فتح ہوگی اور اس وجہ سے بھی کہ قرآن کی ایک عظیم پیشین گوئی جو نبی ﷺ کی رسالت کی ایک بہت بڑی دلیل سے پوری ہوگی۔ یہ امر یہاں قابل توجہ ہے کہ باوجودیکہ رومی صحیح نصرانیت کے پیرو نہیں تھے بلکہ ان کے عقائد و اعمال میں بہت سی خرابیاں پیدا ہوچکی تھیں لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کو مجوسویں کے مقابل میں ان سے ہمدردی ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی اس ہمدردی کی تحسین فرمائی۔ اسلام نے دوسری غیر مسلم قوموں کے ساتھ اسی اصول پر اپنے قانون اور معاملات کی بنیادر کھی ہے۔ یعنی جو قوم اپنے نظریات و عقائد اور فکرو فلسفہ میں اسلام سے جتنی ہی قریب ہوگی بین الاقوامی میدان میں مسلمانوں کی ہمدردیاں اور دوسروں کے مقابل میں ان کے ساتھ اتنی ہی زیادہ ہوں گی۔