تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 11
اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ﴿11﴾
- اَللّٰهُاللہ
- يَبْدَؤُاپہلی بار پیدا کرتا ہے
- الْخَلْقَخلقت
- ثُمَّ يُعِيْدُهٗپھر وہ اسے دوبارہ (پیدا) کرے گا
- ثُمَّ اِلَيْهِپھر اس کی طرف
- تُرْجَعُوْنَتم لوٹائے جاؤ گے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اللہ ہی خلق کا آغاز کرتا ہے پھر وہ اس کا اعادہ کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جائو گے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اللہ یبدوا لخلق ثم بعیدہ چم الیہ ترجعون (11)
اوپر کی آیات میں اس کائنات کے ’ بالحق ‘ ہونے سے قانونِ مجازات کی صھت و صداقت پر استدلال فرمایا ہے۔ اب اس آیت اور بعد کی چند آیات میں نہایت آشکارا الفاظ میں وہ اصل حقیقت سامنے رکھ دی ہے جس سے ہر ایک کو سابقہ پیش آنا ہے۔ فرمایا کہ اللہ ہی خلق کا آغاز فرماتا ہے اور وہی اس کا اعادہ فرمائے گا۔ ان دو لفظوں میں دعویٰ اور دلیل دونوں جمع ہیں۔ دعویٰ یہ ہے کہ اللہ اس خلق کا اعادہ فرمائے گا، دلیل اس کی یہ ہے کہ اسی نے اس کا آغاز کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس نے اس کا آغاز کیا اور اس کام میں اس کو کوئی مشکل پیش نہیں آئی اس کو اس کے اعادے میں بھی کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ بلکہ اعادہ ابداء کے مقابل میں زیادہ آسان ہے۔ یہ جواب ہے منکرین قیامت کے شبہ کا کہ وہ قیامت کو نہایت مستبعد چیز سمجھتے ہیں۔ حالانکہ جب خلق کا ابداء مستبعد نہیں ہے تو اس کے اعادے میں کیا استبعاد ہے !
’ ثم الیہ ترجعون۔ ‘ یہ منکرین کے ایک دوسرے مغالطے کو رفع فرمایا۔ منکرین اول تو قیامت کے وقوع ہی کو نہایت مستبعد خیال کرتے تھے اور اگر ایک مفروضہ کے درجے میں مانتے بھی تھے تو ان کا گمان یہ تھا کہ ہمارا لوٹنا تو ہمارے معبودوں کی طرف ہوگا اور ان کو خدا کے ہاں اتنا تقریب حاصل ہے کہ اول تو وہ اللہ تعالیٰ کو ہمارے اوپر ہاتھ ڈالنے ہی نہیں دیں گے اور اگر اس نے ہاتھ ڈالا تو وہ اپنی سفارش سے ہم کو بچا لیں گے۔ فرمایا کہ یہ خبط اپنے ذہن سے نکالو۔ ہر ایک کی پیشی اللہ ہی کے حضور ہونی ہے۔ اس دن کوئی اور مرجع و ماویٰ نہیں بنے گا۔