تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 12
وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ﴿12﴾
- وَيَوْمَاور جس دن
- تَقُوْمُ السَّاعَةُبرپا ہوگی قیامت
- يُبْلِسُناامید رہ جائیں گے
- الْمُجْرِمُوْنَمجرم (جمع)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جس دن قیامت واقع ہوگی تو مجرم اس دن مایوس ہوجائیں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ویوم تقوم الساعۃ یبلیس المجرمون ولم یکن تھم من شرکأ ئھم شفعوا کانوا بشرکائھم کفرین (12۔ 13)
’ ابلاس ‘ کے معنی بالکل مایوس اور بھونچا ہو کر رہ جانا ہے۔ فرمایا کہ آج یہ مخالفین جن کی شفاعت پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں جب قیامت کے دن ان کے سامنے اصلی صورت حال آئے گی تو وہ مایوس اور بھونچکے ہو کر رہ جائیں گے۔ وہ دیکھیں گے کہ جن کو انہوں نے شریک خدا بنایا اور جن کی زندگی بھرپوجا کی ان میں سے کوئی بھی ان کی شفاعت کرنے والا نہیں ہے۔
’ وکانو بشرکائھم کفسرین اور خود ان کا حال یہ ہوگا کہ جن کی حمایت میں آج آستینیں چڑھائے ہوئے ہر ایک سے لڑنے کو تیار ہیں، ان کے منکر بن جائیں گے۔ سورة قصص کی تفسیر میں ہم یہ واضح کرچکے ہیں کہ قیامت کے مختلف مراحل میں مشرکین اپنے شرکاء کے معاملے میں مختلف رویے اختیار کریں گے۔ کبھی تو وہ ان کو اپنی مدد کے لئے پکاریں گے اور کبھی وہ مرحلہ بھی آئے گا کہ صاف صاف ان کا انکار کریں گے۔ حیرانی و پریشانی کے عالم میں جہاں جو بات بنتی نظرآئے گی اور کریں گے لیکن قیامت بات بنانے کی جگہ نہیں ہوگی بلکہ حقائق سے دوچار ہونے کی جگہ ہوگی۔
یہاں زبان کے اس اسلوب پر بھی نگاہ رہے کہ مستقبل کے احوال ماضی کے صیغوں۔ ولم یکن لھم اور کان بشرکائھم۔ میں بیان ہوئے ہیں۔ یہ اسلوب تقریب فہم کے لئے اختیار کیا جاتا ہے گویا مکاطب جس چیز کو نہایت بعید سمجھتے ہیں متکلم اس کو ماضی کے اسلوب میں ایک واقع شدہ واقعہ کی حیثیت سے پیش کرتا ہے۔ احوالِ قیامت کے بیان میں قرآن نے یہ اسلوب اکثر جگہ استعمال کیا ہے۔