Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 14

  1. وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ﴿14﴾

    1. وَيَوْمَاور جس دن
    2. تَقُوْمُ السَّاعَةُقائم ہوگی قیامت
    3. يَوْمَئِذٍاس دن
    4. يَّتَفَرَّقُوْنَمتفرق ہوجائیں گے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جس دن قیامت واقع ہوگی مومن و کافر دونوں الگ الگ ہوجائیں گے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ویوم تقوم الساعۃ یومئذ یتفرقون فاما الذین امنوا وعملوا الصلحت فھم فی روضۃ یحجرون وا ما الذین کفروا وکذبو ابایتتنا ولقای الاخرۃ فاولئک فی العذاب معفسرون (14۔ 16) یعنی اس دنیا کا کارخانہ ابتلاء کے قانون کے تحت چل رہا ہے اس وجہ سے اس میں نیک و بد اور مومن و فاسق دونوں ملے ہوئے ہیں اور اکثر حالات میں اہل حق مظلوم و مقہور اور اہل باطل غالب و فتحمند ہیں اس وجہ سے اس دنیا کا ’ بالحق ‘ ہونا ان لوگوں کو نظر نہیں آتا جن کے اندر بصیرت نہیں ہے لیکن جب آخرت کا یو الفرقان نمایاں ہوگا اور اس دن نیک و بدر اور مومن و کافر دونوں ایک دوسرے سے بالکل الگ الگ ہوجائیں گے۔ جو ایمان و عمل صالح والے لوگ ہوں گے وہ ایک شاندار باغ میں مسرور و شادماں ہوں گے اور جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی آیات و ملامت کو جھٹلایا ہوگا۔ وہ عذاب میں پکڑے ہوئے ہوں گے۔ یہاں ’ روضۃ ‘ کی تنکیر تفخیم شان کے لئے ہے۔ یعنی جنت کے باغوں میں سے شاندار باغ میں۔ ’ ضبر ‘ کے معنی خوش اور مسرور کرنے کے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے لئے وہ تمام اسباب مہیا فرمادے گا جو ان کی خوشی کے لے ضروری ہوں گے۔ مجرمین کے باب میں لفظ محضرون الف کی ذلت و بےبسی کی تصویر کے لئے ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ عذاب میں اس طرح باندھ کر اور گھسیٹ کر لائے جائیں گے جس طرح سزا یافتہ قیدی لائے جاتے ہیں۔